LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار

نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال

Web Desk

30 May 2026

امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیوارک میں امیگریشن حراستی مرکز کے باہر احتجاجی مظاہروں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہو گیا، جس پر ریاستی پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق نیوارک میں واقع ڈیلینی ہال کے باہر کئی روز سے احتجاج جاری تھا، جہاں مظاہرین اور امیگریشن حکام کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی تھیں جبکہ مرکز کے اندر قید افراد کی جانب سے مبینہ طور پر بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔

ریاستی گورنر کے مطابق صورتحال اس حد تک بگڑ گئی تھی کہ اسے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے پولیس کو تعینات کیا گیا۔ پولیس نے احتجاجی مقام کے گرد رکاوٹیں لگا کر مرکزی راستے بند کر دیے جبکہ امیگریشن حکام کو بھی عمارت کے اندر منتقل کر دیا گیا۔

احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے مخصوص علاقوں میں منتقل ہونے سے انکار کیا اور دھرنا جاری رکھا۔ انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو دبایا جا رہا ہے، جبکہ حکام نے صورتحال کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران امیگریشن اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کے اسپرے اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا۔ حکام کے مطابق متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے الزامات ہیں۔

بعدازاں حکام نے بتایا کہ احتجاج کے دوران مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں، جبکہ صورتحال کے پیش نظر بعض وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو بھی علاقے میں تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ریاستی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو قریبی ایئرپورٹ پر تعینات بعض اہلکاروں کو بھی ڈیلینی ہال کے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے فضائی آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریاستی گورنر نے کہا ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ریاستی پولیس کی تعیناتی ناگزیر تھی، جبکہ وفاقی حکام نے احتجاج کو امن و امان کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ داخلہ کے مطابق ڈیلینی ہال ایک ہزار بستروں پر مشتمل نجی حراستی مرکز ہے، جہاں اس وقت تقریباً تین سو افراد موجود ہیں، جن کی بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے ڈیجیٹل سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔