LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پاکستان کرکٹ بورڈ کا احتجاج ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک مریم نواز کا نیپال میں سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات، ملکی بندرگاہوں کی بہتری میں اہم پیشرفت مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار، بھارتی نوجوان ایک مرتبہ پھر احتجاج پر مجبور ایران کی ترکیہ میں امریکی صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے کی تردید پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر مشعال ملک کا پمز ہسپتال کے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج دنیا سوشل میڈیا سے متاثر، نوجوان حقائق پر مبنی تجزیاتی صلاحیت کو فروغ دیں: فیلڈ مارشل آسٹریلیا: ہزاروں کاروباری اداروں کو سائبر حملوں کا نشانہ بنانے والے ملزمان کیخلاف 14 مقدمات درج برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، صارفین کا حساس ڈیٹا چوری

نیوارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال

Web Desk

30 May 2026

امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیوارک میں امیگریشن حراستی مرکز کے باہر احتجاجی مظاہروں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہو گیا، جس پر ریاستی پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔

حکام کے مطابق نیوارک میں واقع ڈیلینی ہال کے باہر کئی روز سے احتجاج جاری تھا، جہاں مظاہرین اور امیگریشن حکام کے درمیان جھڑپیں بھی ہو رہی تھیں جبکہ مرکز کے اندر قید افراد کی جانب سے مبینہ طور پر بھوک ہڑتال بھی کی گئی۔

ریاستی گورنر کے مطابق صورتحال اس حد تک بگڑ گئی تھی کہ اسے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے پولیس کو تعینات کیا گیا۔ پولیس نے احتجاجی مقام کے گرد رکاوٹیں لگا کر مرکزی راستے بند کر دیے جبکہ امیگریشن حکام کو بھی عمارت کے اندر منتقل کر دیا گیا۔

احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے مخصوص علاقوں میں منتقل ہونے سے انکار کیا اور دھرنا جاری رکھا۔ انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو دبایا جا رہا ہے، جبکہ حکام نے صورتحال کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران امیگریشن اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مرچوں کے اسپرے اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا۔ حکام کے مطابق متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے الزامات ہیں۔

بعدازاں حکام نے بتایا کہ احتجاج کے دوران مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں، جبکہ صورتحال کے پیش نظر بعض وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو بھی علاقے میں تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ریاستی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو قریبی ایئرپورٹ پر تعینات بعض اہلکاروں کو بھی ڈیلینی ہال کے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے فضائی آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریاستی گورنر نے کہا ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے ریاستی پولیس کی تعیناتی ناگزیر تھی، جبکہ وفاقی حکام نے احتجاج کو امن و امان کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی محکمہ داخلہ کے مطابق ڈیلینی ہال ایک ہزار بستروں پر مشتمل نجی حراستی مرکز ہے، جہاں اس وقت تقریباً تین سو افراد موجود ہیں، جن کی بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے ڈیجیٹل سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔