LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرول 6 روپے 51 پیسےمہنگا، نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی خبریں بے بنیاد، سپلائی بلا تعطل جاری رہے گی: اوگرا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف

“ایران پر حملہ گریٹر مڈل ایسٹ کی جانب قدم ہے”: اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی عالمی خاموشی اور امریکی جارحیت پر کڑی تنقید

Web Desk

7 April 2026

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایران پر مسلط کردہ حالیہ جنگ اور عالمی اداروں کی بے حسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر اور نیتن یاہو مسلسل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حملہ دراصل ‘گریٹر مڈل ایسٹ’ کے ایجنڈے کی تکمیل کی جانب ایک قدم ہے اور دو ایٹمی قوتوں کا ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانا خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سمیت پوری دنیا اس جنگ کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ اس تنازع کے اثرات سے پاکستان بھی براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے جنگ روکنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو خوش آئند قرار دیا، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے امن کے کسی معاہدے کی گارنٹی کون دے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ خدانخواستہ اگر ایران کو نقصان پہنچا تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاموشی توڑ کر اس جارحیت کو روکے، ورنہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔