LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام: 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام امریکا کا برازیل پر بعض درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

“ایران پر حملہ گریٹر مڈل ایسٹ کی جانب قدم ہے”: اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی عالمی خاموشی اور امریکی جارحیت پر کڑی تنقید

Web Desk

7 April 2026

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایران پر مسلط کردہ حالیہ جنگ اور عالمی اداروں کی بے حسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر اور نیتن یاہو مسلسل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر حملہ دراصل ‘گریٹر مڈل ایسٹ’ کے ایجنڈے کی تکمیل کی جانب ایک قدم ہے اور دو ایٹمی قوتوں کا ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانا خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سمیت پوری دنیا اس جنگ کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ اس تنازع کے اثرات سے پاکستان بھی براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے جنگ روکنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو خوش آئند قرار دیا، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے امن کے کسی معاہدے کی گارنٹی کون دے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ خدانخواستہ اگر ایران کو نقصان پہنچا تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاموشی توڑ کر اس جارحیت کو روکے، ورنہ خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔