LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش ایل این جی سپلائی پر خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا: گورنر خیبرپختونخوا لاہور میں غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی، 39 افراد گرفتار پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ امریکا: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ کے ذریعے سزائے موت کا اعلان اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی امید ہے: فواد چودھری سعودی اتحادی افواج کا آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے پاکستان سری لنکا ٹی20 اور سہ ملکی کرکٹ سیریز کیلئے ٹریفک پلان جاری ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے متنازع بیان پر وائٹ ہاؤس کی وضاحت، کیلیفورنیا کی قیادت شدید برہم ربیع 2026-27ء کے لیے 22 فیصد پانی کی کمی کا خدشہ: ارسا نے صوبوں کا کوٹہ مقرر کر دیا

سپیکٹرم شیئرنگ پالیسی تیار، نظرثانی کیلئے پی ٹی اے کو معاملہ ارسال

Web Desk

31 March 2026

اسلام آباد: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹیلی کام سروسز کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے “سپیکٹرم شیئرنگ پالیسی” تیار کر کے حتمی نظرثانی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو بھجوا دی ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد ٹیلی کام آپریٹرز کو ایک دوسرے کے ساتھ فریکوئنسی سپیکٹرم شیئر کرنے کی اجازت دینا ہے، جس سے نیٹ ورک کی گنجائش اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس نئی پالیسی کے تحت نہ صرف سپیکٹرم بلکہ انفراسٹرکچر شیئرنگ پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اب ایک ہی موبائل ٹاور کو مختلف ٹیلی کام کمپنیاں مشترکہ طور پر استعمال کر سکیں گی، جس سے آپریٹرز کے اخراجات میں کمی آئے گی اور نیٹ ورک کی رسائی ان علاقوں تک ممکن ہو سکے گی جہاں اب تک سگنلز کا مسئلہ درپیش ہے۔

وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ نئے بینڈز پر پی ٹی اے کی نظرثانی مکمل ہوتے ہی اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے خاص طور پر دور دراز اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی کوریج میں بہتری متوقع ہے، جو ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔