LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک ہے‘، نئی دہلی میں افغان وزیرِ زراعت عطاء اللہ عمری کا متنازع بیان ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کو ایران کے تمام علاقے مکمل تباہ کرنے کے احکامات دیے جا چکے: ٹرمپ امریکی محکمہ خارجہ کی افغان طالبان رجیم پر تنقید، یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ایران نے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی، امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے: عراقچی پولیس نے طالبہ سے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکار کر دیا ایران نے اقوام متحدہ سے امریکا کے احتساب کا مطالبہ کر دیا امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال ورلڈ بینک کے صدر کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ’ٹرائیونڈا‘ کا تحفہ، سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کی اجے بنگا سے ملاقات ظہران ممدانی امریکی یہودیوں میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول قرار امریکا کا ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند کرنے کے عوامی اعلان کا مطالبہ، ساتھ دھمکی بھی دیدی ایرانی وزارت صحت کی بھی فضائی حملوں میں 17 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق

لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں,ایس ایم تنویر

Web Desk

30 March 2026

لاہور: معروف تاجر رہنما اور ایف پی سی سی آئی کے سابق عہدیدار ایس ایم تنویر نے دیگر تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے ممکنہ لاک ڈاؤن اور کاروباری اوقات میں کمی کے فیصلوں کو معیشت کے لیے خودکش قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گردش کرنے والے ‘فیک نوٹیفیکیشنز’ نے تاجر برادری میں شدید بے چینی پیدا کی ہے، حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری ایکشن لے۔

ایس ایم تنویر نے واضح کیا کہ ہفتے میں دو روز کاروبار بند کرنا تاجروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، اس اقدام سے پنجاب کے 2 لاکھ سے زائد ریسٹورنٹس اور دیگر انڈسٹریز بری طرح متاثر ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری ایک گھنٹہ بند رہنے سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس طرح معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رینٹل اور انڈسٹری بند کر کے پیٹرول کی بچت کیسے ممکن ہے؟

تاجر رہنما نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت جنگی جیسی صورتحال میں ہے لیکن ہماری خارجہ پالیسی موثر رہی ہے۔ تاہم، اندرونی طور پر بیوروکریسی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رات 10 بجے کاروباری مراکز بند کرنے کا حکم واپس لیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نظرِ ثانی کی جائے، ورنہ سرمایہ کار ملک سے بھاگ جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز کو لازمی اعتماد میں لیا جائے۔