LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

تھرپارکر: لوک فنکارہ مائی فاطمہ 71 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

Web Desk

14 March 2026

صحرائے تھر کی ثقافت اور لوک موسیقی کی پہچان، معروف فنکارہ مائی فاطمہ 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ طویل عرصے سے جگر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھیں اور جانبر نہ ہو سکیں۔ مائی فاطمہ نے اپنی زندگی کی سات دہائیاں فنِ موسیقی کی خدمت میں گزاریں اور تھر کے ریگزاروں کی آواز کو عالمی سطح پر روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لسانی مہارت: مائی فاطمہ نے سندھی، مارواڑی اور سرائیکی زبانوں میں لوک گیت گا کر اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
عوامی مقبولیت: ان کے گائے ہوئے گیت نہ صرف سندھ بلکہ سرحد پار اور سرائیکی بیلٹ میں بھی یکساں مقبول تھے۔ ان کی آواز میں صحرا کی تڑپ اور ثقافت کی مہک رچی بسی تھی۔ثقافتی نقصان: ان کے انتقال پر فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقوں اور تھر کے عوام میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اسے سندھی لوک موسیقی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔