LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام چینی و امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکا کا تیل کمپنیوں کو مزید 92.5 ملین بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان صدر مملکت اور وزیراعظم کی محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم مزدور منایا جارہا ہے

پھیپھڑے اور نظامِ ہاضمہ متاثر کر دینے والا جینیاتی مرض

Web Desk

7 March 2026

سسٹک فائبروسس ایک جینیاتی بیماری ہے جو زیادہ تر پھیپھڑوں اور نظامِ انہضام کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق ہر 3000 نومولود بچوں میں سے ایک بچہ اس مرض کا کیریئر ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ بیماری دو سال کی عمر تک تشخیص ہو جاتی ہے، تاہم بعض بچوں میں علامات ہلکی ہونے کی وجہ سے 18 سال کی عمر تک بھی اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

یہ ایک ملٹی سسٹم بیماری ہے جس میں Cystic Fibrosis Transmembrane Conductance Regulator (CFTR) نامی جین میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جس کے باعث جسم میں کلورائیڈ چینلز متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس خرابی کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے ساتھ جگر، انتڑیاں، لبلبہ اور پتہ جیسے اہم اعضا بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

عام طور پر جسم میں پیدا ہونے والا بلغم جراثیم اور رکاوٹوں کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم سسٹک فائبروسس میں بننے والی رطوبت غیر معمولی طور پر گاڑھی ہو جاتی ہے۔ یہ گاڑھا بلغم پھیپھڑوں کی نالیوں کو بند کر دیتا ہے جس کے باعث مریض کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اسی دوران نالیوں میں بیکٹیریا جمع ہونے لگتے ہیں جو انفیکشن کا سبب بنتے ہیں اور پھیپھڑوں کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اس بیماری کی عام علامات میں بار بار سینے کا انفیکشن، نمونیا، برونکائٹس، سانس لینے میں دشواری، سینے سے سیٹی جیسی آواز آنا، سائنوس کا انفیکشن، مسلسل کھانسی اور بلغم کا اخراج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں میں نشوونما کی رفتار کم ہونا، وزن نہ بڑھنا، پتلے پاخانے اور جسم میں غذائی کمی کے آثار بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

ایمرجنسی صورتِ حال میں شدید کھانسی کا دورہ، زیادہ بلغم کا اخراج، سانس لینے میں شدید دشواری، سینے سے خرخراہٹ کی آواز، بخار، بھوک میں نمایاں کمی اور وزن میں اچانک تبدیلی جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ اسی طرح پلمونری فنکشن ٹیسٹ میں Forced Expiratory Volume میں 10 فیصد سے زیادہ کمی بھی خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

سسٹک فائبروسس کے مریضوں میں پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ معدے اور آنتوں کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان میں آنتوں کی رکاوٹ، لبلبے کی سوزش، متلی اور قے، سیلیک بیماری، جگر اور پتہ کی سوزش، سسٹک فائبروسس سے وابستہ ذیابیطس، ہڈیوں کی کمزوری، جوڑوں کی سوزش، گردوں کے مسائل اور مرد و خواتین میں بانجھ پن کے امکانات شامل ہیں۔

تشخیص کے لیے عموماً مریض کے وزن، Spirometry/FEV1 ٹیسٹ، خون میں آکسیجن کی مقدار، سینے کا ایکس رے، بلغم اور خون کے ٹیسٹ کے ساتھ ذیابیطس کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔

علاج کے ابتدائی مراحل میں اینٹی بائیوٹکس، سینے کی فزیوتھراپی، آکسیجن، متوازن غذا اور شوگر لیول کو کنٹرول کرنے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اگر علامات میں بہتری نہ آئے تو مریض کو ہسپتال میں داخل کر کے مزید ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں بلڈ کلچر، مائیکرو بائیولوجی ٹیسٹ، برونکو اسکوپی، الرجک برونکو پلمونری ایسپرجلوسس کی جانچ اور سینے کا سی ٹی اسکین شامل ہیں۔

علاج کے دوران سانس کی نالیوں کو کھولنے اور بلغم کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ معیاری اینٹی بائیوٹکس اور اسٹرائیڈز بھی تجویز کیے جاتے ہیں۔ مریض کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ وہ متوازن غذا فراہم کریں اور شوگر لیول کو قابو میں رکھیں۔

شدید حالت میں مریض کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں وینٹی لیٹر سپورٹ کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے مریضوں کے لیے سالانہ ویکسینیشن، خاص طور پر H. Influenzae اور Pneumococcal ویکسین بھی علاج کا حصہ ہوتی ہے۔

اگر پھیپھڑے مکمل طور پر ناکارہ ہو جائیں تو پھیپھڑوں کی پیوند کاری یعنی لنگ ٹرانسپلانٹ بھی ایک علاجی طریقہ ہے۔ تاہم اس طریقۂ علاج میں ابھی وسیع پیمانے پر کامیابی نہیں ملی اور پیوند کاری کے بعد بھی مریض کی زندگی کا دورانیہ عموماً ایک سے ڈیڑھ سال تک ہی بڑھایا جا سکتا ہے۔