LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے سرکاری حج سکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی کا آغاز 7 اکتوبر کے حملے ہماری ناکامی تھے، سبق سیکھنا ہوگا: سربراہ اسرائیلی فوج دبئی میں بزرگ شہریوں کیلئے نئے ہیریٹیج ولیج منصوبے کا باقاعدہ آغاز حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان

نظام شمسی کے 6 سیارے ایک قطار میں آنے کیلئے تیار

Web Desk

25 February 2026

فلکیاتی مشاہدات کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے کہ رواں ماہ کے اختتام پر ایک انتہائی نایاب اور سحر انگیز خلائی نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔ ماہرِ فلکیات ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق، 28 فروری 2026 کو نظامِ شمسی کے چھ سیارے—عطارد (Mercury)، زہرہ (Venus)، مشتری (Jupiter)، زحل (Saturn)، یورینس (Uranus) اور نیپچون (Neptune)—ایک قطار میں ترتیب پائیں گے، جسے “پلانیٹری پریڈ” کہا جاتا ہے۔

اس دلچسپ واقعے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

بہترین وقت: یہ نظارہ سورج غروب ہونے کے تقریباً 30 منٹ بعد شروع ہوگا۔

انسانی آنکھ سے مشاہدہ: عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری کو عام آنکھ سے دیکھنا ممکن ہوگا (اگر مطلع صاف رہا)۔ٹیلی اسکوپ کی ضرورت: یورینس اور نیپچون چونکہ زمین سے بہت دور ہیں، اس لیے انہیں دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت پڑے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ “سیاروں کی قطار” کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ خلا میں ایک سیدھی لکیر میں آ جاتے ہیں، بلکہ زمین سے دیکھنے پر وہ آسمان کے ایک ہی حصے میں ایک لکیر کی صورت ترتیب وار دکھائی دیتے ہیں۔ اگر موسم سازگار رہا تو یہ رواں سال کا اب تک کا سب سے خوبصورت فلکیاتی واقعہ ہوگا۔