LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

جونا گڑھ پر بھارتی قبضے کو 78 برس مکمل، ہندو انتہا پسندی اور جبر کی کہانی آج بھی زندہ

Web Desk

9 November 2025

ریاستِ جونا گڑھ پر بھارت کے غیر قانونی اور غاصبانہ قبضے کو 78 سال گزر گئے، مگر ظلم و جبر کی وہ داستان آج بھی تاریخ کے اوراق میں تازہ ہے۔

1947 میں آزادی کے فوراً بعد، جونا گڑھ اسٹیٹ کونسل نے پاکستان سے الحاق کی باقاعدہ منظوری دی تھی، تاہم بھارتی رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نواب آف جونا گڑھ پر فیصلہ واپس لینے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔ ناکامی کے بعد بھارت نے فوجی طاقت کے بل پر ریاست پر قبضہ کر لیا، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھی۔

تاریخی شواہد کے مطابق، بھارتی افواج نے جونا گڑھ میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھائے، قتل و غارت، خواتین کی بے حرمتی اور املاک کی تباہی جیسے سنگین جرائم کیے۔ بعد ازاں بھارت نے اپنے قبضے کو جائز قرار دینے کے لیے ایک جعلی ریفرنڈم بھی کروایا، جسے آج تک عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔

ماہرین تاریخ کا کہنا ہے کہ جونا گڑھ پر بھارت کا قبضہ دراصل اُس توسیع پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت نئی دہلی نے کئی دیگر ریاستوں پر بھی زبردستی تسلط قائم کیا۔
آج بھی بھارت میں اقلیتوں پر مظالم، مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اسی جابرانہ سوچ کا تسلسل ہیں جو 78 سال قبل جونا گڑھ میں شروع ہوئی تھی۔