LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا

ممتاز شاعر مظفر وارثی کو دنیا سے رخصت ہوئے 15برس بیت گئے

Web Desk

28 January 2026

ممتاز شاعر، نعت گو اور حمدیہ کلام کے معروف خالق مظفر وارثی کو دنیا سے رخصت ہوئے 15 برس بیت گئے۔ حمد ہو یا نعت، غزل ہو یا گیت، ہر صنف سخن میں انہوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا اور ادبِ اسلامی کو ناقابلِ فراموش خدمات فراہم کیں۔

مظفر وارثی 23 دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد مظفرالدین صدیقی تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی جہاں جلد ہی وہ ممتاز شعرا میں شمار ہونے لگے۔ ان کی لازوال نعتوں اور حمدوں نے انہیں بے پناہ شہرت دلائی، جن میں یارحمت اللعالمین، ورفعنالک ذکرک، تو کجا من کجا اور حمد کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے نمایاں ہیں۔

مظفر وارثی نے فلمی دنیا میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے لکھے گیتوں نے عوام میں بے حد مقبولیت حاصل کی، جن میں کیا کہوں اے دنیا والو کیا کہوں میں، مجھے چھوڑ کر اکیلا کہیں دور جانے والے اور یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو شامل ہیں۔

ان کی فنی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا، جبکہ انہیں فصیح الہند اور شرف الشعرا کے خطابات بھی عطا کیے گئے۔ مظفر وارثی 28 جنوری 2011ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔