LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے پنجاب اسمبلی میں سندھ طاس معاہدہ، ماحولیاتی آلودگی سمیت متعدد قراردادیں منظور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کراچی پہنچ گئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، امریکا جہازوں کو غلط ضمانتیں دے رہا ہے: ایران این ڈی ایم اے کا گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ پنجاب اسمبلی میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد حقوق کے حصول کیلئے آ رہی ہے: بیرسٹر گوہر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں: مصدق ملک غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بمباری اور فائرنگ، 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن بشکیک میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں

جیا علی کا والدہ کے انتقال پر اہم انکشاف، صدمہ قبول کرنے میں 4 دن لگے

Web Desk

1 September 2026

نامور پاکستانی اداکارہ و ماڈل جیا علی نے اپنی والدہ کے انتقال اور اس کے بعد پیش آنے والی شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات کے حوالے سے اہم اور جذباتی انکشافات کیے ہیں۔

ایک نجی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جیا علی اپنی والدہ کی یاد میں آبدیدہ ہو گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کی شادی صرف 16 برس کی عمر میں ہوئی تھی اور انہوں نے پانچ بچوں کی پرورش اور خاندان کی کفالت کے لیے تمام عمر انتھک محنت کی۔ والدہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید علیل رہیں اور کومے میں چلی گئی تھیں، جنہیں اس حال میں دیکھنا اداکارہ کے لیے انتہائی دردناک تجربہ تھا۔ جیا علی نے افسوس کا اظہار کیا کہ وہ اپنی والدہ کی زندگی میں ان سے کھل کر محبت کا اظہار نہ کر سکیں۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ والدہ کے انتقال کی خبر انہیں اسلام آباد میں ملی، تاہم اس شدید صدمے کے باعث وہ شدید ذہنی صدمے (Trauma) میں چلی گئیں اور اس حقیقت کو فوری تسلیم نہ کر سکیں۔ وہ لاہور میں تدفین میں شرکت کے بجائے کراچی چلی گئیں اور ان کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا، جس کی وجہ سے والدہ کی تدفین دو دن کی تاخیر سے کی گئی۔ جیا علی کے مطابق انہیں یہ بات قبول کرنے میں چار دن لگے کہ ان کی والدہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس صدمے اور صدمے کے بعد کے ادوار میں وہ شدید ڈپریشن اور ایلوپیشیا (بال جھڑنے کی بیماری) کا شکار ہو گئی تھیں۔