LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

یوٹیوب کی سب سے پہلی ویڈیو ایک میوزیم کا حصہ بن گئی

Web Desk

19 February 2026

انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی ویب سائٹ ‘یوٹیوب’ پر اپ لوڈ کی گئی سب سے پہلی ویڈیو نے اب ایک نیا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل اپ لوڈ کی جانے والی اس مختصر ویڈیو کو اب لندن کے مشہور ’وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم‘ (V&A) میں مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

‘می ایٹ دی زو’ (Me at the zoo): ایک تاریخی پس منظر
یہ محض 19 سیکنڈ کی ایک سادہ سی ویڈیو ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:

ریکارڈنگ: اسے یوٹیوب کے شریک بانی جاوید کریم نے ریکارڈ کیا تھا، جس میں وہ سان ڈیاگو کے چڑیا گھر میں ہاتھیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی لمبی سونڈ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

تاریخ: یہ ویڈیو 23 اپریل 2005 کو اپ لوڈ کی گئی تھی۔

مقبولیت: اب تک اس ویڈیو کو 32 کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اور اسے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ‘لائیکس’ مل چکے ہیں۔

میوزیم کا حصہ کیسے بنی؟
وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے ترجمان کے مطابق، انہوں نے نہ صرف اس ویڈیو کو بلکہ یوٹیوب کے اس ابتدائی ویب پیج (Web Page) کے ڈیزائن کو بھی خریدا ہے جس پر یہ ویڈیو پہلی بار نظر آئی تھی۔

تیاری: میوزیم گزشتہ 18 ماہ سے یوٹیوب کی ٹیم اور ایک ڈیزائن اسٹوڈیو کے ساتھ مل کر اس ویڈیو کے ابتدائی ‘واچ پیج’ کو اس کی اصل حالت میں دوبارہ تیار کرنے پر کام کر رہا تھا۔

نمائش: میوزیم کے ایک خصوصی حصے میں اس ویڈیو کو ایک منی ڈسپلے کے ساتھ رکھا گیا ہے، جہاں شائقین ڈیجیٹل دور کی اس عظیم شروعات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، کسی ڈیجیٹل ویڈیو کا میوزیم کا حصہ بننا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوٹیوب نے انسانی ثقافت اور معلومات کے تبادلے کے طریقے کو کس طرح تبدیل کر دیا ہے۔