LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

یوٹیوب کی سب سے پہلی ویڈیو ایک میوزیم کا حصہ بن گئی

Web Desk

19 February 2026

انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی ویب سائٹ ‘یوٹیوب’ پر اپ لوڈ کی گئی سب سے پہلی ویڈیو نے اب ایک نیا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل اپ لوڈ کی جانے والی اس مختصر ویڈیو کو اب لندن کے مشہور ’وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم‘ (V&A) میں مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

‘می ایٹ دی زو’ (Me at the zoo): ایک تاریخی پس منظر
یہ محض 19 سیکنڈ کی ایک سادہ سی ویڈیو ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:

ریکارڈنگ: اسے یوٹیوب کے شریک بانی جاوید کریم نے ریکارڈ کیا تھا، جس میں وہ سان ڈیاگو کے چڑیا گھر میں ہاتھیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی لمبی سونڈ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

تاریخ: یہ ویڈیو 23 اپریل 2005 کو اپ لوڈ کی گئی تھی۔

مقبولیت: اب تک اس ویڈیو کو 32 کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اور اسے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ‘لائیکس’ مل چکے ہیں۔

میوزیم کا حصہ کیسے بنی؟
وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے ترجمان کے مطابق، انہوں نے نہ صرف اس ویڈیو کو بلکہ یوٹیوب کے اس ابتدائی ویب پیج (Web Page) کے ڈیزائن کو بھی خریدا ہے جس پر یہ ویڈیو پہلی بار نظر آئی تھی۔

تیاری: میوزیم گزشتہ 18 ماہ سے یوٹیوب کی ٹیم اور ایک ڈیزائن اسٹوڈیو کے ساتھ مل کر اس ویڈیو کے ابتدائی ‘واچ پیج’ کو اس کی اصل حالت میں دوبارہ تیار کرنے پر کام کر رہا تھا۔

نمائش: میوزیم کے ایک خصوصی حصے میں اس ویڈیو کو ایک منی ڈسپلے کے ساتھ رکھا گیا ہے، جہاں شائقین ڈیجیٹل دور کی اس عظیم شروعات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، کسی ڈیجیٹل ویڈیو کا میوزیم کا حصہ بننا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوٹیوب نے انسانی ثقافت اور معلومات کے تبادلے کے طریقے کو کس طرح تبدیل کر دیا ہے۔