LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران غزہ مذاکرات میں حماس کے ساتھ کھڑا رہے گا: مسعود پزشکیان آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 21 کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری امریکا نے پاسداران انقلاب سے منسلک تین اداروں پر عائد پابندیاں ختم کردیں شہری کے اغوا اور بھتہ خوری کیس میں راولپنڈی پولیس کا اہلکار دو ساتھیوں سمیت گرفتار روس کی کیف پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، 21 افراد ہلاک، درجنوں زخمی جائیکا کے صدر کی احسن اقبال سے ملاقات، ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق شہباز شریف سے ایرانی وفد کی ملاقات، تجارت، کان کنی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر گفتگو وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب، شیڈول طے پا گیا پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان توانائی کے شعبے میں سٹریٹجک تعاون، مفاہمتی یادداشت پر دستخط عمان سے ممکنہ بحری معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں: ایران پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں پوزیشن ہولڈرز کا اعلان، طالبات نمایاں رہیں فلسطین کی آزادی کے لیے عرب اور مسلم ممالک متحد ہوں: اسحاق ڈار وزیراعظم سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معاشی اصلاحات کے فروغ پر اتفاق وزیراعظم کی پرائیویٹائزیشن کمیشن کی تنظیمِ نو 01 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت

یوٹیوب کی سب سے پہلی ویڈیو ایک میوزیم کا حصہ بن گئی

Web Desk

19 February 2026

انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی ویب سائٹ ‘یوٹیوب’ پر اپ لوڈ کی گئی سب سے پہلی ویڈیو نے اب ایک نیا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل اپ لوڈ کی جانے والی اس مختصر ویڈیو کو اب لندن کے مشہور ’وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم‘ (V&A) میں مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

‘می ایٹ دی زو’ (Me at the zoo): ایک تاریخی پس منظر
یہ محض 19 سیکنڈ کی ایک سادہ سی ویڈیو ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:

ریکارڈنگ: اسے یوٹیوب کے شریک بانی جاوید کریم نے ریکارڈ کیا تھا، جس میں وہ سان ڈیاگو کے چڑیا گھر میں ہاتھیوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی لمبی سونڈ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

تاریخ: یہ ویڈیو 23 اپریل 2005 کو اپ لوڈ کی گئی تھی۔

مقبولیت: اب تک اس ویڈیو کو 32 کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اور اسے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد ‘لائیکس’ مل چکے ہیں۔

میوزیم کا حصہ کیسے بنی؟
وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے ترجمان کے مطابق، انہوں نے نہ صرف اس ویڈیو کو بلکہ یوٹیوب کے اس ابتدائی ویب پیج (Web Page) کے ڈیزائن کو بھی خریدا ہے جس پر یہ ویڈیو پہلی بار نظر آئی تھی۔

تیاری: میوزیم گزشتہ 18 ماہ سے یوٹیوب کی ٹیم اور ایک ڈیزائن اسٹوڈیو کے ساتھ مل کر اس ویڈیو کے ابتدائی ‘واچ پیج’ کو اس کی اصل حالت میں دوبارہ تیار کرنے پر کام کر رہا تھا۔

نمائش: میوزیم کے ایک خصوصی حصے میں اس ویڈیو کو ایک منی ڈسپلے کے ساتھ رکھا گیا ہے، جہاں شائقین ڈیجیٹل دور کی اس عظیم شروعات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، کسی ڈیجیٹل ویڈیو کا میوزیم کا حصہ بننا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوٹیوب نے انسانی ثقافت اور معلومات کے تبادلے کے طریقے کو کس طرح تبدیل کر دیا ہے۔