دنیا کے سب سے بڑے بچھوں کی 41 کروڑ برس قدیم باقیات
Web Desk
5 June 2026
لندن: برطانیہ میں دریافت ہونے والے فوسل کے قدیم ٹکڑوں کو ماہرینِ ارضیات اور سائنس دانوں نے دنیا کی اب تک کی سب سے بڑے بچھوؤں کی باقیات قرار دے دیا ہے۔ ایک میٹر سے زائد لمبائی رکھنے والی یہ قبل از تاریخ مخلوق “پرائرکٹورُس گِیگاس” (Praearcturus gigas) کے نام سے جانی جاتی ہے، جو زمین پر گھومنے والے اولین عظیم شکاریوں میں شمار ہوتی تھی۔
سائنسی رپورٹس کے مطابق، کروڑوں سال پہلے آج کے برطانیہ کے علاقوں، خصوصاً انگلینڈ اور ویلز میں دنیا کے یہ سب سے بڑے بچھو پائے جاتے تھے۔ اگرچہ ‘پرائرکٹورُس گِیگاس’ کے فوسلز ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سائنس دانوں کے علم میں تھے، لیکن اس کی اصل حیاتیاتی شناخت اور حجم طویل عرصے تک شدید تنازع اور بحث کا موضوع بنی رہی۔ اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف فوسلز پر کی گئی نئی تحقیق نے حتمی تصدیق کر دی ہے کہ یہ مخلوق واقعی تاریخِ ارض کے سب سے بڑے بچھوؤں میں سے ایک تھی۔
سائنس دانوں نے اس پراسرار مخلوق کے حجم کے مینوئل موازنے کے بعد درج ذیل حقائق سامنے لائے ہیں:
-
پنجوں کا سائز: اس دیوہیکل بچھو کے صرف پنجوں کی لمبائی ہی تقریباً 16 سینٹی میٹر تھی۔
-
مجموعی لمبائی: ایک سائنسی اندازے کے مطابق اس کے پورے جسم کی مجموعی لمبائی یک میٹر (تقریباً 3.3 فٹ) سے بھی زیادہ تھی، جو موجودہ دور کے بچھوؤں کے مقابلے میں کئی گنا بڑی ہے۔
ماہرین کے مطابق، تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے یہ دیوہیکل بچھو اس دور کے سیلابی میدانوں پر راج کرتا تھا۔ اس مخصوص زمانے کو زمین کی تاریخ میں ‘ابتدائی ڈیونیئن دور’ کہا جاتا ہے۔
اس دور کی پوزیشن یہ تھی کہ خشکی پر زندگی ابھی اپنے بالکل ابتدائی مراحل میں تھی، جس کی وجہ سے زمین پر بہت کم ایسے جانور موجود تھے جو حجم میں اس کا مقابلہ کر سکتے۔ نتیجے کے طور پر، یہ دیو قامت بچھو خشکی پر رینگنے والے چھوٹے آرتھروپوڈز (Arthropods) جانوروں کا ایک بے رحم شکاری بن کر ابھرا اور اسے ماحول میں شکار کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔
محقّقین کا کہنا ہے کہ پرائرکٹورُس گِیگاس کی طاقت صرف زمین تک محدود نہیں تھی۔ ماہرینِ عینیات کا خیال ہے کہ یہ خونخوار بچھو صرف خشکی پر ہی نہیں بلکہ پانی کے اندر بھی ایک خوفناک شکاری کی صلاحیت رکھتا تھا، جہاں یہ اپنے مضبوط اور بڑے پنجوں کی مدد سے مچھلیوں اور پانی کے دیگر بڑے جانداروں کو دبوچ کر اپنی غذا حاصل کرتا تھا۔ اس نئی تصدیق نے زمین پر زندگی کے ارتقائی عمل کو سمجھنے کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
انسٹاگرام اکاؤنٹس خطرے میں، میٹا کا اے آئی چیٹ بوٹ ہیکرز کا معاون بن گیا
5 June 2026
ٹک ٹاک کے مالک نے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ دیا
4 June 2026
مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، ماحولیات سے متعلق انتباہ جاری!
4 June 2026
آئندہ بجٹ میں موبائل صارفین کے لیے بڑی خوشخبری؛ وزارتِ آئی ٹی کی ایڈوانس ٹیکس اور جی ایس ٹی (GST) میں نمایاں کمی کی تجویز
4 June 2026
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
3 June 2026
مچھر بھگانے والی ادویات سے متعلق حیران کن انکشاف!
3 June 2026
گوگل میپس میں ایک نئے دلچسپ فیچر کا اضافہ
3 June 2026
عمر کے تعین کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف
2 June 2026