LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی

دنیا کے سب سے بڑے بچھوں کی 41 کروڑ برس قدیم باقیات

Web Desk

5 June 2026

لندن: برطانیہ میں دریافت ہونے والے فوسل کے قدیم ٹکڑوں کو ماہرینِ ارضیات اور سائنس دانوں نے دنیا کی اب تک کی سب سے بڑے بچھوؤں کی باقیات قرار دے دیا ہے۔ ایک میٹر سے زائد لمبائی رکھنے والی یہ قبل از تاریخ مخلوق “پرائرکٹورُس گِیگاس” (Praearcturus gigas) کے نام سے جانی جاتی ہے، جو زمین پر گھومنے والے اولین عظیم شکاریوں میں شمار ہوتی تھی۔

سائنسی رپورٹس کے مطابق، کروڑوں سال پہلے آج کے برطانیہ کے علاقوں، خصوصاً انگلینڈ اور ویلز میں دنیا کے یہ سب سے بڑے بچھو پائے جاتے تھے۔ اگرچہ ‘پرائرکٹورُس گِیگاس’ کے فوسلز ایک صدی سے زیادہ عرصے سے سائنس دانوں کے علم میں تھے، لیکن اس کی اصل حیاتیاتی شناخت اور حجم طویل عرصے تک شدید تنازع اور بحث کا موضوع بنی رہی۔ اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف فوسلز پر کی گئی نئی تحقیق نے حتمی تصدیق کر دی ہے کہ یہ مخلوق واقعی تاریخِ ارض کے سب سے بڑے بچھوؤں میں سے ایک تھی۔

سائنس دانوں نے اس پراسرار مخلوق کے حجم کے مینوئل موازنے کے بعد درج ذیل حقائق سامنے لائے ہیں:

  • پنجوں کا سائز: اس دیوہیکل بچھو کے صرف پنجوں کی لمبائی ہی تقریباً 16 سینٹی میٹر تھی۔

  • مجموعی لمبائی: ایک سائنسی اندازے کے مطابق اس کے پورے جسم کی مجموعی لمبائی یک میٹر (تقریباً 3.3 فٹ) سے بھی زیادہ تھی، جو موجودہ دور کے بچھوؤں کے مقابلے میں کئی گنا بڑی ہے۔

ماہرین کے مطابق، تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے یہ دیوہیکل بچھو اس دور کے سیلابی میدانوں پر راج کرتا تھا۔ اس مخصوص زمانے کو زمین کی تاریخ میں ‘ابتدائی ڈیونیئن دور’ کہا جاتا ہے۔

اس دور کی پوزیشن یہ تھی کہ خشکی پر زندگی ابھی اپنے بالکل ابتدائی مراحل میں تھی، جس کی وجہ سے زمین پر بہت کم ایسے جانور موجود تھے جو حجم میں اس کا مقابلہ کر سکتے۔ نتیجے کے طور پر، یہ دیو قامت بچھو خشکی پر رینگنے والے چھوٹے آرتھروپوڈز (Arthropods) جانوروں کا ایک بے رحم شکاری بن کر ابھرا اور اسے ماحول میں شکار کی کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔

محقّقین کا کہنا ہے کہ پرائرکٹورُس گِیگاس کی طاقت صرف زمین تک محدود نہیں تھی۔ ماہرینِ عینیات کا خیال ہے کہ یہ خونخوار بچھو صرف خشکی پر ہی نہیں بلکہ پانی کے اندر بھی ایک خوفناک شکاری کی صلاحیت رکھتا تھا، جہاں یہ اپنے مضبوط اور بڑے پنجوں کی مدد سے مچھلیوں اور پانی کے دیگر بڑے جانداروں کو دبوچ کر اپنی غذا حاصل کرتا تھا۔ اس نئی تصدیق نے زمین پر زندگی کے ارتقائی عمل کو سمجھنے کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔