پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب، اہم سنگِ میل عبور
Web Desk
25 June 2026
عالمی انرجی تھنک ٹینک Ember اور پاکستانی انرجی تھنک ٹینک Renewables First کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی اور جامع رپورٹ ’دی سولرائزیشن آف پاکستانز انرجی اکانومی‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی (سولر پاور) کے بے پناہ انقلاب نے محض دو سال کے اندر ملک کے پورے توانائی نظام کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سرکاری اعداد و شمار میں عموماً ڈسٹریبیوٹڈ سولر (گھروں، دفاتر اور فیکٹریوں کی چھتوں پر نصب چھوٹے سولر سسٹمز) کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تاہم یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان کے انرجی ڈیٹا کو ان سسٹمز کی شمولیت کے ساتھ نئی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ڈسٹریبیوٹڈ سولر نے نہ صرف بجلی کی طلب کو پورا کیا بلکہ ملکی معیشت کی ترقی اور الیکٹریفیکیشن ریٹ کو بڑھانے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ دو برسوں کے دوران پاکستان کی مجموعی بجلی کی پیداوار میں 21 فیصد (33 ٹیرا واٹ آور) اضافہ ہوا، جس میں سب سے بڑا حصہ ڈسٹریبیوٹڈ سولر جنریشن کا رہا جو 36 ٹیرا واٹ آور ریکارڈ کیا گیا۔ اسی دورانیے میں ملکی جی ڈی پی میں 5.2 فیصد کی شرحِ نمو دیکھی گئی۔
مالی سال 2023 میں ہونے والی 15 ٹیرا واٹ آور کی پیداوار مالی سال 2025 میں تین گنا سے زیادہ بڑھ کر 51 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ گئی۔ اس کے برعکس، روایتی گرڈ الیکٹرسٹی جنریشن میں 3 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی۔مالی سال 2025 میں پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار کا 28 فیصد حصہ ڈسٹریبیوٹڈ سولر سے آیا (جو 2023 کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے)۔ اگر ٹرانسمیشن لاسز اور گرڈ سے بجلی کی چوری کو بھی شامل کیا جائے تو یہ حصہ مجموعی طور پر 32 فیصد بنتا ہے۔سولر میں اس تیزی سے اضافے کے باعث پاکستان میں عوام تک بجلی کی رسائی (الیکٹریفیکیشن ریٹ) بڑھ کر 21.7 فیصد ہو گئی ہے، جو 22 فیصد کے عالمی اوسط کے بالکل قریب ہے۔ اس نے نان-الیکٹرسٹی انرجی کے استعمال کو محدود کرتے ہوئے توانائی کی ہر قسم کی طلب کو خاموشی سے پورا کیا ہے۔
ایمبر (Ember) کے چیف تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں توانائی کی شدید مانگ کو ڈسٹریبیوٹڈ سولر کے ذریعے انتہائی آسان اور سستے طریقے سے پورا کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا یہ سولر بوم دنیا کے دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے کہ صاف اور سستی توانائی کی نمو کتنی تیزی سے ممکن ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، رینیوایبلز فرسٹ (Renewables First) کی ایسوسی ایٹ نبیا عمران نے واضح کیا کہ صارفین سولر پی وی ٹیکنالوجی اپنا کر ملکی توانائی کی منتقلی کے عمل میں اب مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، شمسی توانائی نے معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو سنبھالا دیا ہے:
سولر سسٹمز نے بڑے پیمانے پر مہنگے ڈیزل اور گرڈ الیکٹرسٹی کی جگہ لے کر زرعی معیشت کو بدل دیا ہے، جس سے کاشتکاروں کو فصلوں کو پہلے سے زیادہ پانی دینے کی سہولت ملی۔صنعتوں کو مسابقتی قیمتیں فراہم کر کے گیس اور کوئلے کا متبادل فراہم کیا، جبکہ کمرشل سیکٹر نے گرڈ کے بھاری نرخوں کا بوجھ اٹھائے بغیر بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو برداشت کر لیا۔عام شہریوں کو مہنگے داموں ملنے والے بجلی کے بلوں اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے مستقل چھٹکارہ دلایا۔ اگرچہ ٹرانسپورٹیشن کا شعبہ اس عمل سے ابھی زیادہ متاثر نہیں ہوا، تاہم اسے الیکٹریفیکیشن کا اگلا بڑا محاذ قرار دیا جا رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026