LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، دو افراد جاں بحق خواجہ سعد رفیق کے بیان پر شرجیل انعام میمن کا ردعمل سامنے آگیا یورپ میں شدید گرمی کی لپیٹ میں ، سپین میں 4 روز میں 212 ہلاکتوں اسرائیل کو لبنان کے تمام علاقوں سے نکلنا ہوگا: اسماعیل قانی ایران نے منجمد اثاثوں سے امریکی مصنوعات خریدنے کا دعویٰ مسترد کر دیا خلیجی اتحادیوں کا تحفظ ترجیح، ایران پراکسیز کی حمایت ترک کرے: مارکو روبیو ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فنڈز جاری کئے جانے کی خبروں کی تردید پاکستان اور ایران کا مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی فعال کرنے پر اتفاق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، اسحاق ڈار صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے تباہی و نقصان پر اظہار افسوس ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 164 ہوگئی، 1 ہزار سے زائد زخمی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے: ایران 9 محرم کے جلوس برآمد ہونا شروع، سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل

مریخ پر زندگی کا اشارہ؟ ناسا روور کی بڑی دریافت سامنے آگئی

Web Desk

25 June 2026

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ کے پرزیورینس روور نے مریخ کی چٹانوں میں انتہائی پیچیدہ کاربن مالیکیولز دریافت کیے ہیں، جس کے بعد سرخ سیارے پر قدیم خردبینی زندگی کے ممکنہ نشانات کی موجودگی پر سائنسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ روور پر نصب جدید ‘شرلوک’ (SHERLOC) آلے کے ذریعے حاصل کردہ پیمائشوں سے مریخ کے ‘برائٹ اینجل آؤٹ کراپ’ نامی مقام کی پتھریلی چٹانوں میں نامیاتی کاربن کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ مقام ‘نیریٹوا ویلِس’ کے قریب واقع ہے، جو ایک خشک ہو چکا قدیم دریا ہے اور اربوں سال قبل پانی کو مریخ کے مشہور ‘جیزیرو کریٹر’ (Jezero Crater) تک لے جاتا تھا۔ دریافت ہونے والے کاربن کی یہ شکل ‘میکرو مالیکیولر کاربن’ (MMC) کہلاتی ہے جو زمین پر عام طور پر زندہ جانداروں سے جنم لیتی ہے، تاہم ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ مادہ غیر حیاتیاتی یعنی جغرافیائی عمل کے نتیجے میں بھی بن سکتا ہے، اس لیے اسے مریخ پر ماضی کی زندگی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا اور مزید تحقیق جاری ہے۔