LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فنڈز جاری کئے جانے کی خبروں کی تردید پاکستان اور ایران کا مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی فعال کرنے پر اتفاق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، اسحاق ڈار صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے تباہی و نقصان پر اظہار افسوس ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ، درجنوں عمارتیں منہدم، 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے: ایران 9 محرم کے جلوس برآمد ہونا شروع، سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر قطر و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال برازیل نے سکاٹ لینڈ کو 0-3 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں 7.5 شدت کا زلزلہ، وینزویلا میں 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ، سونامی وارننگ جاری اٹلی نے ایران جنگ میں امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا نیٹو چیف کا بیان مسترد کر دیا مارک روٹے کا بیان جنگ میں نیٹو کی فعال شمولیت کا واضح اور سنگین اعتراف ہے، ایران

یوٹیوب کا کم عمر صارف کی سوشل میڈیا لت سے متعلق مقدمے میں تصفیہ

Web Desk

25 June 2026

گوگل کے زیرِ ملکیت دنیا کے سب سے بڑے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ‘یوٹیوب’ (YouTube) نے امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک 15 سالہ نوجوان کی جانب سے دائر کیے گئے سوشل میڈیا ایڈکشن (لت) کے ہائی پروفائل مقدمے میں باقاعدہ تصفیہ کر لیا ہے۔ اس مقدمے کے بعد گوگل اور دیگر ٹیک کمپنیوں کو بچوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے ایک بار پھر شدید قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

مقدمے میں اصرار کیا گیا تھا کہ یوٹیوب اور دیگر الگورتھم بیسڈ پلیٹ فارمز کم عمر بچوں میں بڑھتے ہوئے شدید ذہنی صحت کے بحران، ڈپریشن، بے چینی (Anxiety) اور نیند کی مستقل کمی جیسے مہیب مسائل کو ہوا دینے کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں سیکیورٹی اور رازداری کے پیشِ نظر نوجوان نے اپنی اصل شناخت ظاہر کرنے کے بجائے ’R.K.C‘ کے ابتدائی حروف استعمال کیے۔نوجوان آر کے سی کا الزام تھا کہ یوٹیوب اور دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے فیچرز کو جان بوجھ کر اس نفسیاتی انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ سکرولنگ کرنے والے کچی عمر کے صارفین ان کے عادی (Addicted) ہو جائیں اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزاریں۔اس تصفیے اور قانونی چارہ جوئی پر ردِعمل دیتے ہوئے گوگل کے مرکزی ترجمان خوسے کاستانیڈا نے میڈیا کو بتایا”یہ قانونی معاملہ اب خوش اسلوبی کے ساتھ حل کر لیا گیا ہے۔ ہماری تمام تر توجہ اور ترجیح بدستور ایسی عمر کے لحاظ سے موزوں (Age-Appropriate) مصنوعات کی فراہمی اور والدین کے مضبوط ڈیجیٹل کنٹرولز (Parental Controls) کی تیاری پر مرکوز ہے جو ہمارے حفاظتی وعدوں کو پورا کر سکیں۔”

یوٹیوب کے ساتھ معاملہ حل ہونے کے باوجود دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں

 کم عمر صارف آر کے سی نے صرف یوٹیوب ہی نہیں بلکہ فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ‘میٹا’ (Meta)، ٹک ٹاک (TikTok) اور اسنیپ چیٹ (Snapchat) کے خلاف بھی اسی نوعیت کے سنگین مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔ ان بقیہ تمام کمپنیوں کے خلاف مقدمات کی باقاعدہ عدالتی سماعت 27 جولائی سے امریکی شہر لاس اینجلس میں شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔

یہ عدالتی کارروائی ریاست کیلیفورنیا میں زیرِ التوا ایک ہزار (1,000) سے زائد اسی نوعیت کے بچوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا لت سے متعلق مقدمات کے سلسلے کا دوسرا سب سے بڑا اور اہم ترین ٹرائل ہوگا، جن کی عدالتی نگرانی لاس اینجلس سپیریئر کورٹ کی معزز جج کیرولین کوہل کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس کیس کو بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور کمپنیوں کی سیکیورٹی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔