LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ،تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق فیلڈ مارشل سے جمہوریہ کانگو کے دفاعی وفد کی ملاقات، سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ حکومت کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں: سہیل آفریدی بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 37 دہشتگرد ہلاک اپوزیشن جماعتوں کے نئے الائنس کا معاملہ، اہم مشاورتی اجلاس آج ہوگا پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج ملائیشین وزیر داخلہ کا نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈیجیٹل نظام کو سراہا امریکی پابندیاں اور معاشی دباؤ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا حل نہیں: چین عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، سیاست کا معیار گٹر میں ڈال دیا گیا ہے، خواجہ آصف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا

برطانوی بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

Web Desk

26 June 2026

برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سوم نے فیصلہ کیا ہے کہ بکنگھم پیلس کی 10 سالہ طویل اور مہنگی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اور ملکہ کمیلا اس تاریخی محل میں مستقل قیام نہیں کریں گے، تاہم یہ محل شاہی تقریبات اور دفتری سرگرمیوں کا مرکز برقرار رہے گا۔ کنگ چارلس سوم نے اعلان کیا ہے کہ 36 کروڑ 90 لاکھ پاؤنڈ کی خطیر لاگت سے جاری بکنگھم پیلس کی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ اپنی رہائش قریبی شاہی عمارت “کلیرنس ہاؤس” میں ہی رکھیں گے۔ شاہی حکام کا کہنا ہے کہ بکنگھم پیلس بدستور برطانوی بادشاہت کا انتظامی اور رسمی مرکز رہے گا جہاں سرکاری ملاقاتیں، اہم تقریبات اور شاہی امور انجام دیئے جائیں گے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہی خاندان اپنی سرگرمیوں میں شفافیت اور جدید انداز اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اعلان کے موقع پر کنگ چارلس نے پہلی مرتبہ بادشاہ بننے کے بعد اپنی ادا کردہ ٹیکس کی رقم بھی ظاہر کی، جس کے مطابق انہوں نے مالی سال 25-2024 میں تقریباً ایک کروڑ 29 لاکھ پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔واضح رہے کہ بکنگھم پیلس 1820 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور ملکہ وکٹوریہ کے دور سے برطانوی بادشاہوں کی لندن میں سرکاری رہائش گاہ رہا ہے۔ اس تاریخی محل میں 775 کمرے ہیں اور یہ شاہی خاندان کے اہم ترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق محل کی تزئین و آرائش کا مقصد پرانے نظام، بشمول بجلی، پانی اور حرارتی سہولیات کو جدید بنانا ہے تاکہ عمارت آئندہ کئی دہائیوں تک استعمال کے قابل رہ سکے۔شاہی حکام کے مطابق کنگ چارلس کے اس فیصلے سے بکنگھم پیلس کو عوام کے لئے مزید کھولا جا سکے گا، جس سے وہاں زیادہ تقریبات منعقد ہوں گی اور سیاحوں کے لئے رسائی میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام برطانوی بادشاہت کے بدلتے ہوئے انداز کی علامت ہے، جس میں تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی شمولیت اور مالی شفافیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔