LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’آٹزم سے آگاہی‘‘ کا دن منایا جا رہا ہے

Web Desk

2 April 2026

اسلام آباد/نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 2007 میں منظور کردہ قرارداد کے بعد سے ہر سال 2 اپریل کو آٹزم آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ آج کے دن دنیا بھر میں نیلا رنگ (Blue Color) آگاہی کی علامت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس کا مقصد آٹزم سے متاثرہ افراد کے حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کی زندگیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، آٹزم (Autism Spectrum Disorder) ایک نیورولوجیکل یعنی اعصابی کیفیت ہے جو بچپن ہی سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ انسان کے سماجی روابط، دوسروں سے بات چیت کرنے کے انداز اور رویوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آٹزم کے شکار بچوں کو اکثر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے (Eye Contact)، جذبات کے اظہار اور بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ آٹزم کوئی ذہنی بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ دماغ کے کام کرنے کا ایک مختلف انداز ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں آج آگاہی واکس، سیمینارز اور خصوصی بچوں کے اسکولوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی عمر میں آٹزم کی تشخیص کر لی جائے اور بچے کو تھراپی اور خصوصی توجہ دی جائے، تو وہ نہ صرف ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں (جیسے ریاضی، آرٹ یا موسیقی) کے ذریعے معاشرے میں اہم کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔