LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ نیب کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے ریکارڈ ریکوری آبنائے ہرمز پر مثبت پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایران کو آخری موقع دے دیا، آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدو رفت بحال، معاہدہ جلد طے پا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ کویت میں دھماکوں اور عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات روسی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تعلیمی انقلاب، 2 برس میں شرح خواندگی 35 فیصد بڑھانے کا ہدف لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات شرمندگی اور ذلت کا باعث ہوں گے: حزب اللہ مریم نواز سے خوشاب کے ایم پی ایز کی ملاقات، عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف لندن میں مقیم پاکستانیوں کو جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی کی سہولت مل گئی فوجی دستوں سے مکمل رابطہ، استعفیٰ نہیں دوں گا اور ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر پنجاب اسمبلی: 5 اگست 2019 کے کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کیخلاف قرارداد جمع پاکستان کی چین کو ایک ارب30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کیلئے باضابطہ درخواست

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’آٹزم سے آگاہی‘‘ کا دن منایا جا رہا ہے

Web Desk

2 April 2026

اسلام آباد/نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 2007 میں منظور کردہ قرارداد کے بعد سے ہر سال 2 اپریل کو آٹزم آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ آج کے دن دنیا بھر میں نیلا رنگ (Blue Color) آگاہی کی علامت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس کا مقصد آٹزم سے متاثرہ افراد کے حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کی زندگیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، آٹزم (Autism Spectrum Disorder) ایک نیورولوجیکل یعنی اعصابی کیفیت ہے جو بچپن ہی سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ انسان کے سماجی روابط، دوسروں سے بات چیت کرنے کے انداز اور رویوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آٹزم کے شکار بچوں کو اکثر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے (Eye Contact)، جذبات کے اظہار اور بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ آٹزم کوئی ذہنی بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ دماغ کے کام کرنے کا ایک مختلف انداز ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں آج آگاہی واکس، سیمینارز اور خصوصی بچوں کے اسکولوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی عمر میں آٹزم کی تشخیص کر لی جائے اور بچے کو تھراپی اور خصوصی توجہ دی جائے، تو وہ نہ صرف ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں (جیسے ریاضی، آرٹ یا موسیقی) کے ذریعے معاشرے میں اہم کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔