LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ

Web Desk

18 September 2026

اپوزیشن اتحاد ‘تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان’ کے اہم اجلاس میں ۲۷ ستمبر کے مجوزہ احتجاج کو انتہائی موثر بنانے اور اسے ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں اپوزیشن قائد اور اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقدہ اس اجلاس میں سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، مصطفیٰ نواز کھوکھر، زبیر عمر اور سینیٹر مشتاق احمد سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، پٹرولیم قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور خیبرپختونخوا و بلوچستان میں امن و امان کی بگرتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ شرکا نے ۲۷ ستمبر کے احتجاج کے لیے مشترکہ سیاسی، میڈیا اور عوامی رابطہ حکمتِ عملی کی منظوری دی ہے اور تمام جمہوری جماعتوں سے روابط تیز کرتے ہوئے جلد آل پارٹیز کانفرنس (APC) بلانے پر اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے میں پُرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے ۲۷ ستمبر کے مظاہروں کو تحریک کا نقطۂ آغاز قرار دیا گیا، جس کے بنیادی ایجنڈے میں مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ اور امن و امان شامل ہوں گے۔ اتحاد نے ۲۶ویں اور ۲۷ویں آئینی ترامیم کے ساتھ ساتھ مجوزہ ۲۸ویں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کی کوششوں پر سخت تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسی غیر نمائندہ حکومت کو صوبوں کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

اعلامیے میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی و انتظامی حیثیت کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا اور دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے پیشِ نظر نئے کینالز کی تعمیر فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے، ان کی اہلیہ اور دیگر سیاسی اسیران کے ساتھ ملاقاتوں پر عائد پابندیوں، ایمان مزاری کی دوبارہ گرفتاری اور پی ٹی آئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کی ہے۔ علاوہ ازیں، تمام جبری گمشدہ افراد کی فوری بازیابی، مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے خاتمے، سرحد پار تجارت کی بحالی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ پنجاب کے مبینہ غیر جمہوری رویے اور حال ہی میں پیش آنے والے کوہاٹ بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔