LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اکثر افراد کا سانس کیوں پھول جاتا ہے؟

Web Desk

9 March 2026

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ چند منزل سیڑھیاں چڑھنے کے بعد سانس پھولنے لگتی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف عام افراد کو ہی نہیں بلکہ میراتھن دوڑنے والے ایتھلیٹس کو بھی پیش آ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زمین پر دوڑنے کے مقابلے میں سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم مختلف انداز سے کام کرتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ہمارے مسلز ہیں۔ مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی جے مائیکل کے مطابق جسم کے پٹھوں میں دو اقسام کے مسل فائبرز ہوتے ہیں: ایک سست رفتار سے کام کرنے والے اور دوسرے تیزی سے متحرک ہونے والے۔

سست رفتار مسل فائبرز طویل فاصلے کی سرگرمیوں میں مدد دیتے ہیں اور تھکاوٹ کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں، جبکہ تیزی سے متحرک ہونے والے مسل فائبرز اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب جسم کو اچانک زیادہ طاقت درکار ہو، جیسے چھلانگ لگانا یا سیڑھیاں چڑھنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیڑھیاں چڑھنا جسم کے لیے نسبتاً مشکل سرگرمی ہے کیونکہ اس دوران جسم کو زیادہ طاقت درکار ہوتی ہے۔ مڈ ویسٹرن اسٹیٹ یونیورسٹی کے فزیولوجسٹ پروفیسر فرینک وائٹ کے مطابق اس عمل کے دوران جسم میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈروجن کے حوالے سے حساسیت بڑھ جاتی ہے جس سے تھکاوٹ جلد محسوس ہونے لگتی ہے اور سانس تیز ہو جاتی ہے۔

سیڑھیاں چڑھنے کے دوران کششِ ثقل کے خلاف کام کرنا بھی سانس پھولنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دوران انسان اپنے جسمانی وزن کو اوپر کی جانب اٹھا رہا ہوتا ہے، جس کے لیے زیادہ مسلز اور توانائی درکار ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ روزمرہ زندگی میں سیڑھیاں چڑھنے سے پہلے کسی قسم کا وارم اپ نہ کرنا بھی اس مسئلے کی ایک وجہ ہے۔ جب مسلز اچانک زیادہ محنت کرتے ہیں تو جسم کو زیادہ آکسیجن درکار ہوتی ہے اور سانس تیز ہو جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیڑھیاں چڑھنے کے دوران بعض ایسے مسلز بھی استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر کم متحرک ہوتے ہیں، اسی وجہ سے یہ سرگرمی بظاہر آسان ہونے کے باوجود جسم کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس پھول جائے تو ضروری نہیں کہ اس کا مطلب جسمانی کمزوری ہو، بلکہ یہ جسم کا قدرتی ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر سانس لینے میں غیر معمولی دشواری یا سینے میں درد محسوس ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔