LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

سونگھنے کی حس میں کمی کس بیماری کی علامت ہو سکتی ہے؟

Web Desk

15 April 2026

طبی سائنس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے دریافت کیا ہے کہ سونگھنے کی حس میں کمی الزائمر کی بیماری کی سب سے ابتدائی اور اہم ترین علامت ہو سکتی ہے۔ جرمنی کے تحقیقی ادارے DZNE اور میونخ کی LMU یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی اس تازہ ترین تحقیق کے مطابق، سونگھنے کی حس میں یہ تبدیلی یادداشت کے واضح مسائل اور بھولنے کی بیماری ظاہر ہونے سے بھی بہت پہلے رونما ہو جاتی ہے۔

تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اس عمل میں دماغ کا اپنا مدافعتی نظام کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ دماغ کے مدافعتی خلیے، جنہیں ’مائیکروگلیا‘ کہا جاتا ہے، بعض اوقات غلطی سے ان اعصابی ریشوں پر حملہ کر دیتے ہیں جو سونگھنے کے عمل کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ خلیے دماغ کے دو اہم حصوں، ‘اولفیکٹری بلب’ (جو خوشبو کے سگنلز پراسیس کرتا ہے) اور ‘لوکس سیرو لیئس’ (جو برین اسٹیم میں واقع ہے) کے درمیان رابطے منقطع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسان خوشبو محسوس کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشنز‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں چوہوں اور انسانوں کے دماغی بافتوں کے تجزیے اور پی ای ٹی (PET) اسکیننگ کے شواہد شامل کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نتائج الزائمر کی بروقت تشخیص میں انقلابی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سونگھنے کے مسائل کو ابتدائی مرحلے پر ہی پہچان لیا جائے، تو ڈاکٹرز بیماری کو بڑھنے سے روکنے کے لیے زیادہ مؤثر اور فوری علاج شروع کر سکیں گے، جو مستقبل میں لاکھوں مریضوں کے لیے نئی امید ثابت ہو سکتا ہے۔