LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

پنجاب پولیو سے پاک، مارچ میں ایک بھی ماحولیاتی نمونہ مثبت نہ نکلا

Web Desk

15 April 2026

پاکستان میں انسدادِ پولیو کی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جہاں گزشتہ ماہ مارچ کے دوران ملک بھر سے لیے گئے 115 ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے پاک پائے گئے ہیں۔ پولیو کنٹرول سینٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق، صوبہ پنجاب نے اس حوالے سے مثالی کامیابی حاصل کی ہے جہاں تمام ماحولیاتی نمونوں کی رپورٹ منفی آئی ہے اور صوبے میں وائرس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں اب بھی 12 مقامات پر پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

صوبائی سطح پر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سندھ اب بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں 7 مقامات پر پولیو وائرس مثبت آیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے 4 مقامات اور بلوچستان کے ایک مقام سے حاصل کردہ نمونوں میں وائرس پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود، گزشتہ برسوں کے مقابلے میں صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں 67 ماحولیاتی نمونے مثبت آئے تھے، جبکہ رواں سال جنوری میں 24 اور فروری میں 14 نمونوں میں وائرس پایا گیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مثبت نمونوں کی شرح میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب کا پولیو سے پاک ہونا ایک بڑا بریک تھرو ہے، لیکن سندھ اور خیبرپختونخوا میں وائرس کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حفاظتی قطرے پلانے کی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ ماہرینِ صحت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ پاکستان کو مکمل طور پر پولیو فری ملک بنایا جا سکے۔ وزارتِ صحت کے مطابق، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ان علاقوں میں خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں جہاں نمونے مثبت آئے ہیں۔