LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ

Web Desk

16 April 2026

اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ ترجمان وزارتِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والا مذاکراتی عمل مجموعی طور پر 21 گھنٹوں تک جاری رہا، جبکہ مجموعی پراسس تقریباً 30 گھنٹے پر محیط تھا۔ انہوں نے ان مذاکرات کو “تعمیری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اس سفارت کاری کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان جنگ بندی ممکن ہو سکی ہے۔

ترجمان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے اس عمل کے لیے ذاتی طور پر مختلف عالمی سربراہان سے رابطے کیے اور وہ اس وقت ریجنل ممالک کے دورے پر ہیں، جبکہ اعلیٰ عسکری قیادت (فیلڈ مارشل) بھی تہران پہنچ چکی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے ان پیچیدہ مذاکرات کے انعقاد میں انتھک محنت کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح رہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کا واحد راستہ بارود نہیں بلکہ مستقل مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجز کے حل کے لیے اپنی اصولی اور مکالمہ پر مبنی پالیسی جاری رکھے گا۔ ان کوششوں کا مقصد نہ صرف دو ممالک کے درمیان جنگ روکنا ہے بلکہ پورے خطے میں معاشی اور سفارتی تعاون کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور اس پیش رفت کو حالیہ دہائیوں میں پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس نے خطے کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا ہے۔