LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

سندھ: بچوں میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ جاری، 329 بچے وائرس سے متاثر

Web Desk

15 April 2026

اسلام آباد: صوبہ سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی (HIV) کے پھیلاؤ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی ہے، جہاں رواں سال 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران مجموعی طور پر 329 بچے اس مہلک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متاثرہ بچوں میں 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 3 سے 4 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو رہی ہے، جو کہ ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے ہی کیسز میں تسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ جنوری میں 294، فروری میں 324 اور مارچ میں 276 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد صوبے میں ایچ آئی وی کے مجموعی کیسز کی تعداد 894 تک جا پہنچی ہے۔ ان اعداد و شمار نے صحت کے حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے، اور ماہرین اس پھیلاؤ کی وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقے، سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور خون کی منتقلی کے دوران اسکریننگ کی کمی کو قرار دے رہے ہیں۔محکمہ صحت سندھ اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندوں نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی شعور کی بیداری اور طبی مراکز میں جراثیم کش آلات کے استعمال کو یقینی بنا کر ہی اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے خصوصی مراکز قائم کرنے اور مفت ادویات کی فراہمی کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں، لیکن زمین سطح پر کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح حکومتی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہے۔