LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس ناگا عوام بھی 14 اگست کو یومِ آزادی سمجھتے ہیں: ناگا خاتون آزاد کشمیر الیکشن: باغ کے دو حلقوں کے 23 پولنگ سٹیشنوں پر ری پولنگ کا آغاز سابق فوجی افسران و جوانوں کا تجربہ و رہنمائی ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 افراد جاں بحق یو نائیٹڈ ہیلتھ کیئر کے سی ای او قتل کیس: لوئیگی مانجیونی نے امریکی فیڈرل کورٹ میں جرم قبول کر لیا نیویارک: کوئینز بورو ہال میں پاکستان کا یومِ آزادی شاندار انداز میں منایا گیا، کمیونٹی رہنماؤں کو ایوارڈز بھی دیئے گئے انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں شدید زلزلہ، شدت 7.7 ریکارڈ بھارتی یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت، فورسز کی بھاری نفری تعینات یمن کی موکا بندرگاہ پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ، 4 افراد جاں بحق

پھیلتا ایبولا وائرس تاریخ کی مہلک ترین وبا ثابت ہوسکتا ہے: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا

Web Desk

14 August 2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے متنبہ کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والی ایبولا وائرس کی نئی لہر اگر اپنی موجودہ رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو یہ تاریخ کی مہلک ترین وبا میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ لہر 2014ء سے 2016ء کی تباہ کن وبا کا ریکارڈ بھی توڑ سکتی ہے، جس میں 11 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

رواں سال کانگو میں 15 مئی 2026ء کو ایبولا کی باقاعدہ تصدیق کی گئی تھی، جس کے بعد سے اب تک 4,300 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ 2,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا ہے کہ میڈیکل تحقیقات کے مطابق وائرس کا پھیلاؤ فروری میں ہی شروع ہو گیا تھا، تاہم ابتدائی دنوں میں غلط تشخيص کے باعث اسے ملیریا یا ٹائیفائیڈ سمجھا جاتا رہا۔

خطرناک ‘بنڈی بوگیو’ قسم اور ویکسین کی عدم دستیابی

  • نایاب وائرس: 2026ء کی یہ وبا ایبولا وائرس کی انتہائی نایاب بنڈی بوگیو (Bundibugyo) قسم کے باعث پھیلی ہے، جو اس سے قبل 2007ء اور 2012ء میں دیکھی گئی تھی۔

  • علاج کا فقدان: وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا حتمی دوا دستیاب نہیں ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے حکام کے مطابق آئندہ تین ماہ کے اندر وائرس کی منتقلی اور پھیلاؤ کی رفتار کو محدود کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم علاج اور ویکسین نہ ہونے کے باعث وائرس کا مکمل خاتمہ فی الوقت ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔