LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی افواج کے یوکرین کی دفاعی صنعت اور توانائی تنصیبات پر بڑے حملے سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ

مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

Web Desk

16 September 2026

پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی ملک کے خلاف جارحیت یا مداخلیت کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔ العربیہ ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کا مشترکہ دفاع اور علاقائی امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ کسی ایک فریق پر حملے کی صورت میں جوابی عمل کا طریقہ کار اور فیصلہ تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت باہمی مشاورت سے طے کرے گی۔

امریکی و ایرانی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا واحد مقصد خطے میں امن قائم رکھنا اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ اور اچھے تعلقات کی بدولت پاکستان ثالثی کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے اور وہ اس تنازع کا حل صرف اور صرف مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے چاہتا ہے۔ سیکیورٹی اور عسکری معلومات کی حساسیت پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دفاعی معاہدوں کے تحت عملی کارروائی کا طریقہ کار اور ملٹری آپریشنز کی تفصیلات ہمیشہ خفیہ رکھی جاتی ہیں۔

افغانستان سے جاری سرحدی دہشت گردی اور ملکی سلامتی کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان کو اپنے دفاع اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں سال ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف 42 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن میں 2,100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ بھارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں پاک فوج نے اپنی کل صلاحیت کا صرف 15 فیصد مظاہرہ کیا تھا اور کسی بھی بھارتی عسکری جارحیت کا جواب انتہائی سخت دیا جائے گا۔