وفاق اور صوبوں کے درمیان این ایف سی معاہدہ ازسرنو دیکھا جائے: عالمی بینک
Web Desk
2 July 2026
عالمی بینک (World Bank) نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت (Fiscal Federalism) کو مضبوط بنانے سے متعلق ایک اہم اور جامع رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں حکومتِ پاکستان کو وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل فنانس کمیشن (NFC) معاہدے اور صوبوں کے مابین فنڈز کی تقسیم کے طریقہ کار پر ازسرِ نو غور کرنے کی سخت سفارش کی گئی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، این ایف سی کے تحت فنڈز کی تقسیم کو کارکردگی (Performance) کی بنیاد پر مشروط کیا جانا چاہیے۔ جو صوبہ عوامی خدمات (سوشل سیکٹر)، صحتِ عامہ اور تعلیم پر زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے، اسے زیادہ محاصل کا حقدار ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے بعد وفاق کا خسارہ مسلسل بڑھتا رہا، جبکہ صوبائی حکومتیں ان تاریخی اصلاحات کے ثمرات عوام تک منتقل کرنے میں ناکام رہیں۔
رپورٹ میں صوبائی حکومتوں کے بجٹ استعمال پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ زیادہ فنڈز ملنے کے بعد صوبوں نے ترقیاتی کاموں کے بجائے اپنے انتظامی و جاری اخراجات بے پناہ بڑھا لیے۔ صوبائی محاصل کا 80 فیصد حصہ انتظامی امور کی نذر ہو رہا ہے، جبکہ ماحولیات جیسے اہم شعبے پر محض 1 فیصد خرچ کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، 18ویں ترمیم کے بعد جو وزارتیں صوبوں کو منتقل ہونی تھیں، ان کے متبادل وزارتیں وفاق میں بھی متوازی طور پر کام کرتی رہیں، جس سے وفاقی اخراجات میں کمی نہ آ سکی۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ وفاقی مالیاتی خسارے کی بڑی وجوہات صوبوں کو زیادہ منتقلی اور کمزور ٹیکس وصولیاں ہیں۔ زرعی آمدن پر مؤثر ٹیکس نہ ہونے سے ملکی محصولات شدید متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2009 میں صوبائی محاصل ملکی معیشت (جی ڈی پی) کا صرف 0.3 فیصد تھے، جو سال 2026 میں معمولی اضافے کے ساتھ 0.7 فیصد تک پہنچے ہیں۔ دوسری جانب، بلدیاتی حکومتوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 10 فیصد سے کم ہو کر اب 5 فیصد سے بھی نیچے گر چکا ہے۔
نئے این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر کارکردگی کی بنیاد پر فنڈز دیے جائیں۔ وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی اور وسائل کی بہتر تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ نچلی سطح پر ترقی کے لیے مقامی (بلدیاتی) حکومتوں کو مالی اور انتظامی طور پر بااختیار بنایا جائے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر
16 August 2026
سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم
16 August 2026
پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر
16 August 2026
وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال
16 August 2026
خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل
16 August 2026
حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان
16 August 2026
امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام
16 August 2026
کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ
16 August 2026