LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی

شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران اور عراق میں ہوں گی

Web Desk

2 July 2026

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے ایران اور عراق کے پانچ بڑے شہروں میں تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس تاریخی اور بڑے اجتماع کی سکیورٹی کے پیشِ نظر ایرانی مسلح افواج کو انتہائی ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، ہفتے کے روز تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں عوام کو اپنے قائد کے آخری دیدار کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد پیر کے روز تہران میں مرکزی جنازے کا عظیم الشان جلوس نکالا جائے گا۔ تہران میں رسومات کی ادائیگی کے بعد میت کو مقدس شہر قم اور پھر وہاں سے عراقی شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔ تمام شہروں سے گزارنے کے بعد، 9 جولائی کو شہید سپریم لیڈر کی ان کے آبائی شہر مشہد مقدس میں تدفین عمل میں آئے گی۔

عسکری و حکومتی ذرائع کے مطابق، تعزیتی تقریبات اور نمازِ جنازہ میں ڈیڑھ کروڑ سے دو کروڑ (15 سے 20 ملین) افراد کی شرکت متوقع ہے۔ عالمی سطح پر روس، چین اور پاکستان سمیت 30 سے زائد ممالک کے اعلیٰ ترین حکام اور دنیا بھر کے 90 ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز مذہبی رہنما بھی جنازے اور آخری رسومات میں شریک ہوں گے۔

ترجمان ایرانی مسلح افواج، بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے میڈیا کو بتایا کہ غیر ملکی سربراہانِ مملکت اور مذہبی شخصیات کی آمد کے پیشِ نظر فوج مکمل الرٹ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی بری، بحری اور فضائی افواج نے ملکی سرحدوں پر اپنی تعیناتی اور گشت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ملکی فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) چوبیس گھنٹے فضائی حدود کی کڑی نگرانی کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔