LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی

شہری کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر کو نوٹس جاری

Web Desk

2 July 2026

سندھ ہائیکورٹ نے جعلسازوں کی مبینہ سرپرستی کرنے اور مقدمے کے درخواست گزار کو پولیس کی جانب سے دھمکیاں دینے اور ہراساں کیے جانے کے سنگین الزامات پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے یہ نوٹسز شہری ساجد معروف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیے۔ جن دیگر شخصیات اور افسران کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں ڈی آئی جی کرائم انویسٹی گیشن، ایس ایس پی کورنگی قیص خان، انویسٹی گیشن آفیسر (IO) عباد حیدر، کامران آفتاب اور عباس بٹ شامل ہیں۔

عدالت میں دائر درخواست کے مطابق، درخواست گزار ساجد معروف نے کامران آفتاب نامی شخص کو 2 کروڑ روپے مالیت کا قیمتی کیمیکل مواد فراہم کیا تھا۔ اس کے بدلے کامران آفتاب نے عباس بٹ کے ذریعے 90 لاکھ روپے کا ایک پے آرڈر دیا، جو بینک میں جمع کروانے پر مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا۔ اس جعلسازی کے خلاف زمان ٹاؤن تھانے میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہے۔

درخواست گزار کا الزام ہے کہ متعلقہ پولیس افسران قانون کا ساتھ دینے اور منصفانہ کارروائی کرنے کے بجائے الٹا ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں اور کیس کے اہم شواہد مٹانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

درخواست گزار کی وکیل بشریٰ عباس ایڈووکیٹ نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق تفتیش کسی غیر جانبدار پولیس افسر کو منتقل ہونی چاہیے تھی، لیکن ایسا کرنے کے بجائے پولیس کی جانب سے ان کے موکل کو سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو مطلع کیا کہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو پولیس اور ملزمان کی ملی بھگت سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے جس سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔

درخواست میں سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار اور اس کے خاندان کو فوری طور پر فول پروف سکیورٹی اور تحفظ فراہم کیا جائے اور جعلی پے آرڈر کے اس پورے معاملے کی کسی ایماندار افسر سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔