LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل

امریکا میں ویزا قوانین مزید سخت، ذیابیطس اور موٹاپے کے مریضوں پر داخلے کی پابندی کا امکان

Web Desk

9 November 2025

واشنگٹن: امریکی حکومت نے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایسے غیر ملکیوں کے لیے امریکا میں داخلے کی شرائط سخت کر دی ہیں جو ذیابیطس، موٹاپے، دل کے امراض یا دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے دنیا بھر میں موجود سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو جاری نئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اب ویزا افسران درخواست گزاروں کی صحت، عمر اور علاج کے متوقع اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ بعض بیماریوں جیسے دل، پھیپھڑوں، شوگر، سرطان اور ذہنی امراض کے علاج پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اور ایسے افراد امریکا کے طبی نظام پر بوجھ بن سکتے ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت ویزا افسران یہ بھی دیکھیں گے کہ آیا درخواست گزار اپنی زندگی بھر کے ممکنہ علاج کے اخراجات خود برداشت کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ اگر یہ ثابت نہ ہو سکا تو اس کی درخواست مالی بوجھ بننے کے خدشے پر مسترد کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ویزا کے لیے طبی جانچ کا عمل پہلے سے موجود تھا، تاہم نئی ہدایات کے بعد بیماریوں کی فہرست میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے اور افسران کو صحت کی بنیاد پر ویزا مسترد کرنے کے زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا کے امیگریشن قوانین میں ایک اہم اور متنازعہ تبدیلی ہے، جس سے خاص طور پر وہ افراد متاثر ہوں گے جو امریکا میں مستقل رہائش کے خواہاں ہیں۔