LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا، اتحادیوں کے دباؤ پر قرارداد منظور کی: ایران یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں 3 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئیں امریکی صدر کی قطر کی جانب سے دیئے گئے ایئر فورس ون طیارے پر ٹیکساس روانگی برطانوی فضائی ٹریفک کنٹرول میں بڑی فنی خرابی، حکومت کا ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں، ایرانی میڈیا ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی، معاملہ سلامتی کونسل میں جائے گا

ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا

Web Desk

10 September 2026

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے اپنی ایک انکشافی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری عسکری کشیدگی اور جنگ جنوری 2029ء تک طویل ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان حساس خدشات سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ شدید امریکی فوجی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور سخت معاشی پابندیوں کے باوجود ایران طویل مدت تک اپنی عسکری مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے پیشِ نظر امریکہ نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی وسیع عسکری موجودگی برقرار رکھنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے خطے میں موجود بعض امریکی فضائی دفاعی (Air Defense) یونٹس کی تعیناتی کی مدت 2027ء تک بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ اضافی میرین فورسز اور جدید جنگی طیاروں کی باری باری فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے متوقع بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں سے خلیجی ممالک کی توانائی اور تیل کی تنصیبات کو شدید ترین خطرات درپیش ہیں۔ دفاعی اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ممکنہ طویل جنگ کے نتیجے میں عالمی تیل کی منڈیوں میں شدید عدم استحکام اور عالمی معیشت پر ہولناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔