LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ

ایران جنگ کیلئے حکومت کے پاس امریکی عوامی حمایت محدود قرار، سروے

Web Desk

5 June 2026

واشنگٹن: امریکہ میں کیے گئے ایک نئے اور اہم رائے عامہ کے سروے میں یہ چونکا دینے والی بات سامنے آئی ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے پاس امریکی عوام کی حمایت انتہائی محدود ہے اور ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اس فوجی تصادم کو خود امریکہ کے اپنے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ سمجھتی ہے۔

یہ مشترکہ سروے میری لینڈ یونیورسٹی، معروف تحقیقاتی ادارے ‘اِپسوس’ (Ipsos) اور ‘بروکنگز انسٹی ٹیوشن’ کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔ اس سروے کے دوران 15 سے 21 مئی کے درمیان 1 ہزار 3 سو ستتر (1,377) بالغ امریکی شہریوں سے تفصیلی رائے لی گئی تاکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی اقدامات پر عوامی موڈ کا اندازہ لگایا جا سکے۔

سروے کے بنیادی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام اس جنگ کے طویل کھینچنے پر شدید شکوک و شبہات کا شکار ہیںسروے میں شامل 56 فیصد شرکاء کا دوٹوک الفاظ میں کہنا تھا کہ اب تک یہ جنگ امریکہ کے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مفادات پر مثبت کے مقابلے میں زیادہ منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جب شرکاء سے یہ اہم سوال پوچھا گیا کہ “کیا امریکہ یہ جنگ جیت چکا ہے یا جیت رہا ہے؟” تو اس پر صرف 16 فیصد امریکیوں نے اثبات (ہاں) میں جواب دیا، جو کہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

سروے کے دوران امریکی سیاست کے دونوں بڑے دھڑوں یعنی ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کی سوچ میں ایک بہت بڑا اور نمایاں فرق دیکھا گیا ہے: ڈیموکریٹک پارٹی کے 88 فیصد حامیوں نے اس جنگ کو امریکہ کے لیے سراسر نقصان دہ قرار دیا۔ تاہم، حیران کن طور پر صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت یعنی ریپبلکن پارٹی کے حامیوں میں سے بھی 33 فیصد (ایک تہائی) افراد نے اپنی ہی حکومت کے مؤقف کے برعکس اسے ملکی مفادات کے لیے نقصان دہ مانا ہے۔ امریکی کامیابی کے حوالے سے جہاں ریپبلکن ووٹروں میں 39 فیصد کا خیال تھا کہ امریکہ کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے یا کامیاب ہو چکا ہے، وہیں ڈیموکریٹ ووٹروں کے اندر یہ شرح نہ ہونے کے برابر یعنی صرف ایک فیصد ریکارڈ کی گئی۔

سروے کے مجموعی نتائج مجموعی طور پر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری اس جنگ کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے امریکی عوام کے اندر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور صدر ٹرمپ کو اس معاملے پر، خصوصاً اپوزیشن (ڈیموکریٹ) ووٹروں کے درمیان، کسی قسم کی وسیع عوامی مہم یا حمایت حاصل نہیں ہے۔