LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

امریکا نے خلائی مخلوق اور یو ایف اوز سے متعلق خفیہ دستاویزات اور ویڈیوز جاری کر دیں

Web Desk

9 May 2026

امریکی حکومت نے ایک تاریخی اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے خلائی مخلوق، یو ایف اوز (UFOs) اور نامعلوم فضائی مظاہر (UAP) سے متعلق برسوں سے خفیہ رکھی گئی درجنوں دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر لانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان حساس فائلوں کو ‘ڈی کلاسیفائی’ کرتے ہوئے عوام کے لیے جاری کرنے کے احکامات دیے۔

محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ان تقریباً 170 فائلوں میں 1969 کے اپالو 12 مشن کی وہ تصاویر بھی شامل ہیں جن میں چاند کی سطح پر ‘نامعلوم مظاہر’ کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ 1972 کے اپالو 17 مشن کے خلانوردوں کی گفتگو کے ٹرانسکرپٹس بھی منظرِ عام پر لائے گئے ہیں، جن میں وہ چاند کے قریب پراسرار اجسام کی موجودگی پر حیرت اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ان فائلوں کو طویل عرصے تک چھپا کر رکھنے سے بے جا قیاس آرائیوں نے جنم لیا، لہٰذا اب وقت ہے کہ عوام خود حقائق کا مشاہدہ کریں۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو ‘غیر معمولی شفافیت’ قرار دیتے ہوئے سابقہ حکومتوں کو حقائق چھپانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب، سیاسی ناقدین کا خیال ہے کہ ان حساس دستاویزات کا اس وقت اجرا ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم اور جیفری ایپسٹین کیس جیسے سنگین مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہو سکتی ہے۔