چین: نمک اور آئینوں سے سستی بجلی بنانے کی نئی ٹیکنالوجی متعارف
Web Desk
26 May 2026
عوامی جمہوریہ چین نے گرین اور کلین انرجی کے شعبے میں ایک اور حیران کن عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے نمک اور ہزاروں آئینوں کی منفرد سائنسی آمیزش سے انتہائی سستی بجلی پیدا کرنے کی جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔ یہ انقلابی منصوبہ روایتی سولر پینلز کے مقابلے میں رات کے وقت بھی بجلی فراہم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جدید پاور پلانٹ میں تقریباً 12 ہزار مخصوص آئینے نصب کیے گئے ہیں، جو سورج کی روشنی کو منعکس (Reflect) کر کے ایک عظیم الجثہ مرکزی ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں۔ اس ٹاور کی بلندی تقریباً 80 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ آئینوں کی مدد سے جب سورج کی شعاعیں اس ٹاور پر پڑتی ہیں، تو اس کے اندر موجود نمک کا ذخیرہ شدید ترین حرارت کے باعث 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پگھل کر گرم ہو جاتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے؟
اس انوکھے پاور ہاؤس کا طریقہ کار درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:
-
تھرمل انرجی کا حصول: 12 ہزار آئینے سورج کی روشنی کو 80 منزلہ ٹاور پر فوکس کرتے ہیں۔
-
نمک کا پگھلنا: ٹاور میں موجود نمک کی بڑی مقدار شدید ترین گرمی سے مائع (Molten Salt) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
-
بھاپ کی تیاری: اس انتہائی گرم نمک کو خصوصی انسولیٹڈ ٹینکوں میں محفوظ کیا جاتا ہے، جہاں اس کی تپش سے پانی کو تیز رفتار بھاپ (Steam) میں بدلا جاتا ہے۔
-
بجلی کی پیداوار: یہ بھاپ روایتی ٹربائنز کو گھماتی ہے، جس سے پیدا ہونے والی سستی بجلی اس وقت لاکھوں چینی گھروں کو فراہم کی جا رہی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اس نظام کی سب سے بڑی خاصیت پگھلے ہوئے نمک کی حرارت کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ عام سولر سسٹم کے لیے استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں محض چند گھنٹے کا بیک اپ دیتی ہیں، جبکہ یہ تھرمل سسٹم سورج غروب ہونے کے بعد بھی لگاتار 11 گھنٹے تک بغیر کسی تعطل کے بجلی کی پیداوار جاری رکھ سکتا ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ صاف توانائی کے اس مشن کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس وقت چین میں اس نوعیت کے متعدد منصوبے زیرِ تعمیر ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 3 ہزار میگاواٹ ہے۔ بیجنگ انتظامیہ نے ہدف مقرر کیا ہے کہ سال 2030 تک اسی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے 15 ہزار میگاواٹ بجلی ملکی گرڈ میں شامل کی جائے گی تاکہ تیل اور گیس جیسے مہنگے ایندھن پر انحصار ختم کیا جا سکے۔
ماہرینِ معیشت اور توانائی کا کہنا ہے کہ چین کا یہ کلین انرجی ماڈل پاکستان کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے تپتے ہوئے صحرائی علاقوں (جیسے تھر اور چولستان) میں چینی تعاون سے ایسے تھرمل پاور پلانٹس لگائے، تو ملک کو درپیش بجلی کے سنگین بحران اور مہنگی بجلی سے ہمیشہ کے لیے نجات مل سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
لڑکی نے 60 روز تک سو کر 28 لاکھ روپے سے زائد کمالیے
8 November 2026
شارجہ بک فیئر میں جرمن فنکار کا چلتا پھرتا درخت بچوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
7 November 2026
خاتون کاروباری شخصیت کا ملازماؤں کو مہنگے فولڈ ایبل آئی فونز کا تحفہ
7 November 2026
بھارت: 50 سالہ شخص دانت صاف کرتے ہوئے برش ہی نگل گیا
6 November 2026
اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹرمینل میں بندر گھس آیا: مسافروں میں حیرت
6 November 2026
10 سال سے زائد کی محنت، امریکی شہری نے دنیا کی سب سے بڑی ربڑ بینڈ بال بنا ڈالی
4 November 2026
90 سالہ جاپانی باڈی بلڈر کی فٹنس نے دنیا کو حیران کردیا
4 November 2026
مرغیاں کھا کھا کر باز موٹی، ماہرین نے ڈائٹ شروع کروا دی
4 November 2026