LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت اب شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال

Web Desk

17 January 2026

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج پروگرام کے تحت گلگت بلتستان، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے علاقے جیکب لائن صدر میں دوسرے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر انسانیت کی خدمت کا موقع ملا۔

وفاقی وزیر صحت نے انسانیت کی خدمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق سے محبت کرتا ہے اور کسی ضرورت مند کی تکلیف کم کرنا بڑے اجر کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت صحت کوئی عام سرکاری محکمہ نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق کی تکالیف کم کرنے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کا ہیلتھ کیئر نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور کورونا وبا نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ایک وقت میں بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہو جائیں تو ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں۔

سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں بغیر کسی وبا کے بھی ہر سال لاکھوں افراد بیمار ہو رہے ہیں۔ ہر سال تقریباً 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے 4 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی ایک بھی خوراک نہیں ملتی جبکہ لاکھوں بچے صرف ایک خوراک تک محدود رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کا مطلب صرف مریضوں کا علاج نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ ہے اور یہ ذمہ داری صرف وزیر صحت کی نہیں بلکہ یو سی کونسلر سے لے کر پورے نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔