LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی

کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان

Web Desk

4 October 2026

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان چار مختلف ڈرافٹس پر تمام فریقین کا مکمل اتفاق ہو گیا تھا، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے اچانک انکار کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے بارہا زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت بات چیت کے اس عمل میں براہِ راست شامل ہو، لیکن پشاور حکومت کا کوئی نمائندہ یا وزیراعلیٰ سامنے نہیں آیا؛ اگر ان کے پاس کوئی متبادل ڈرافٹ تھا تو انہیں خود بیٹھ کر پیش کرنا چاہیے تھا۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات تمام تر نکات طے پا چکے تھے، لیکن رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد پشاور حکومت نے اچانک نئی شرائط رکھنا شروع کر دیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے 25 سالہ پارلیمانی سفر میں انہوں نے اتنی اہم پیش رفت اور موقع ضائع ہوتے کبھی نہیں دیکھا، جس سے سالوں کی سیاسی تقسیم ختم کر کے ملک میں استحکام لایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے اس صبر و تحامل پر وزیراعظم شہباز شریف، سپیکر ایاز صادق اور محسن نقوی کی کاوشوں کو سراہا اور واضح کیا کہ وفاق نے اپنی جانب سے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ آخری وقت تک دوسری جانب کے واپس آنے کا انتظار کیا۔