LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کارِ سرکار میں مداخلت کیس: ندیم نانی والا کو عدالت سے ریلیف، مقدمے سے بری تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کو بچانے والے وارڈ بوائے کیلئے سول ایوارڈ کا اعلان اداکارہ ماہرہ خان کا تیزاب حملے پر شدید ردعمل، مردوں سے بھی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کی حالت میں بہتری، حالت خطرے سے باہر ایران جنگ کے 100 دن مکمل، عالمی معیشت، تجارت اور سیاست شدید دباؤ کا شکار مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے گلگت بلتستان میں انتخابی میدان گرم، 24 نشستوں پر پولنگ جاری کراچی میں گرمی کا پارہ چڑھنے لگا، ہیٹ ویو کا الرٹ پاکستان میں 377روپے فی لیٹر پیٹرول میں 142 روپے سے زائد ٹیکس اور مارجنز شامل اسلام آباد: امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کا جشن، سفارتخانے میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد نیویارک: اوورسیز کشمیریوں کا عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کا اظہار آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز

اقوام متحدہ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزائم بے نقاب، روس اور ڈنمارک کا پاکستان کے مؤقف کی تائید

Web Desk

22 November 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے بڑھتے ہوئے دہشت گرد عزائم پر عالمی برادری کو گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔ ڈنمارک اور روس نے مشترکہ طور پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شدت پسند نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
روسی مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے وسطی ایشیا اور اس سے آگے تک پھیلنے کا واضح خطرہ موجود ہے۔
خراسان صوبے میں داعش تیزی سے سرگرم اور نہایت خطرناک ہو رہی ہے۔مغربی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں سے مختلف دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال نے ان گروہوں کو مزید مؤثر اور خطرناک بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی سے وابستہ سینکڑوں گروہ سرگرم عمل ہیں، جو پڑوسی ممالک میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کو افغان حکام کی جانب سے عملی اور خاطر خواہ معاونت مل رہی ہے۔
افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی دہشت گرد موجود ہیں جو پاکستانی سرزمین پر ہونے والے بڑے حملوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور امن کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں عالمی برادری نے زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ فوری اور مشترکہ عالمی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ خطے کو ممکنہ تباہ کن اثرات سے بچایا جا سکے۔