LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت

اقوام متحدہ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عزائم بے نقاب، روس اور ڈنمارک کا پاکستان کے مؤقف کی تائید

Web Desk

22 November 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں افغان طالبان کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے بڑھتے ہوئے دہشت گرد عزائم پر عالمی برادری کو گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔ ڈنمارک اور روس نے مشترکہ طور پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شدت پسند نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
روسی مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے وسطی ایشیا اور اس سے آگے تک پھیلنے کا واضح خطرہ موجود ہے۔
خراسان صوبے میں داعش تیزی سے سرگرم اور نہایت خطرناک ہو رہی ہے۔مغربی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں سے مختلف دہشت گرد گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال نے ان گروہوں کو مزید مؤثر اور خطرناک بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی سے وابستہ سینکڑوں گروہ سرگرم عمل ہیں، جو پڑوسی ممالک میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے بھی پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کو افغان حکام کی جانب سے عملی اور خاطر خواہ معاونت مل رہی ہے۔
افغانستان میں تقریباً 6 ہزار ٹی ٹی پی دہشت گرد موجود ہیں جو پاکستانی سرزمین پر ہونے والے بڑے حملوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور امن کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں عالمی برادری نے زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ فوری اور مشترکہ عالمی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے، تاکہ خطے کو ممکنہ تباہ کن اثرات سے بچایا جا سکے۔