LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کر دیا ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت

روس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ صرف 10 فیصد دور ہے، مگر اہم مسائل باقی ہیں: زیلنسکی

Web Desk

1 January 2026

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق امن معاہدہ حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے اور فریقین کے درمیان معاہدہ صرف 10 فیصد دور رہ گیا ہے۔

نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے کہا کہ امن معاہدہ 90 فیصد تک تیار ہے اور یوکرین بھی جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی صورت میں یوکرین کی خودمختاری اور وجود پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہیں تاکہ روس مستقبل میں دوبارہ حملے کی جرات نہ کر سکے۔
صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے لیکن سب سے اہم اور حساس معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات علاقائی کنٹرول کے معاملے پر موجود ہیں۔
روسی فوج اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد حصے پر قابض ہے جبکہ روس معاہدے کے تحت یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے، جو مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔