گورنر کے پی کا دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں پر زور، صوبائی حکومت پر تنقید
Web Desk
29 September 2026
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے درازندہ اور ٹانک میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہم سب ایک صفحے پر ہیں اور ملک و قوم کے لیے سکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں فرنٹ لائن پر نظر نہیں آ رہی، اور حالت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسمبلی میں سکیورٹی فورسز کے خلاف قراردادیں منظور کروائی جاتی ہیں۔ انہوں نے طنز کیا کہ کے پی حکومت کی توجہ صوبے کی بہتر گورننس پر بالکل نہیں ہے بلکہ ان کا سارا فوکس صرف اور صرف اسلام آباد پر چڑھائی اور لانگ مارچ کرنے پر ہے، اور امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔
پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ 27 مارچ کو بھی ان کی کوئی تیاری نہیں تھی، اور اگر یہ اس بار صوابی تک بھی بحفاظت پہنچ جائیں تو ہم ان کو مان لیں گے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی ریاست کے خلاف جائے گا اسے اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف لانگ مارچ کرنے سے بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آ سکتے ہیں تو کیا اس سے پہلے تین بار کیے جانے والے لانگ مارچ رائیگاں گئے تھے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ کے پی حکومت نے اپنے ان مارچوں میں بے دریغ سرکاری وسائل کا استعمال کیا ہے۔
صوبے کے دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ہمارے صوبے میں دہشت گردی کا ناسور موجود ہے جسے ہم سب کو مل کر ختم کرنا ہے، ہم نے ہمیشہ باہمی بات چیت اور بیٹھ کر مسائل کے حل کی بات کی ہے، اور اگر وزیراعلیٰ کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہے تو وہ فوری طور پر ‘اپیکس کمیٹی’ کا اجلاس طلب کریں۔ پولیس فورس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی دعویٰ کرتے تھے کہ پولیس کو غیر سیاسی کریں گے لیکن آج پولیس کے اختیارات غصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ صوبے میں سب سے کم تنخواہیں پولیس اہلکاروں کی ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں بھی خیبرپختونخوا پولیس نے ہی دی ہیں۔
کرپشن اور سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر نیب آج بھی فرانس سے اکاؤنٹس کی جانچ کرے تو سابق وزیراعلیٰ کے بھائی کے اکاؤنٹ سے اربوں ڈالر برآمد ہوں گے، جبکہ پی ٹی آئی کیچڑ اور اندرونی طور پر سخت تقسیم کا شکار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبائی وزیر اور ایم پی اے گرفتار ہو رہے ہیں تو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو اخلاقی طور پر خود استعفیٰ دے دینا چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے تاحال صوبے کی امن و امان کی خراب صورتحال پر صدرِ مملکت کو کوئی باضابطہ خط نہیں لکھا۔
متعلقہ عنوانات
روس میں ٹی یو 95 فوجی طیارہ گر کر تباہ، 6 اہلکار ہلاک
29 September 2026
پی اے ای سی اور او جی ڈی سی ایل کے درمیان لیتھیم منصوبے پر تعاون کا معاہدہ
29 September 2026
اسحاق ڈار کی کفایت شعاری اقدامات کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ہدایت
29 September 2026
کیلیفورنیا میں اسلامی تہواروں پر تعطیلات کو سرکاری قرار دیدیا گیا
29 September 2026
وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے وطن روانہ
29 September 2026
پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا لائحہ عمل تیار کرلیا
29 September 2026
وزیراعظم کا لندن سٹاک ایکسچینج کا دورہ، معیشت مضبوط بنانے کیلئے بہت محنت کی: خطاب
29 September 2026
پاکستان 2027 میں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس کی میزبانی کرے گا: احسن اقبال
29 September 2026