LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران نیویارک کرائے داروں کی بڑی جیت، سٹی بورڈ نے مئیر مامدانی کی ‘کرایہ منجمد کرنے’ کی تاریخی تجویز منظور کر لی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کیلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان روس کا یوکرین کے 660 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ حزب اللہ کا لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ایران جنگ میں پاکستان کا کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا: خواجہ آصف امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے

لندن میں طالبعلم کے قتل پر احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں

Web Desk

3 June 2026

لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایک طالبِ علم کے بہیمانہ قتل کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج شدید پُرتشدد رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں مختلف مقامات پر پولیس اور مشتعل مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، احتجاج کا دائرہ کار دارالحکومت سے نکل کر دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے۔ برطانیہ کے جنوبی شہر ‘ساؤتھمپٹن’ میں مظاہرین نے شدید احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہلہ بول دیا اور وہاں تعینات پولیس فورس کے جوانوں پر اینٹیں اور بوتلیں برسائیں، جس کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے ملک میں جاری پُرتشدد احتجاج اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا:

“طالبِ علم کے قتل کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، لیکن اس لرزہ خیز سانحے کو ملک میں تشدد، فتنہ اور بے امنی پھیلانے کے لیے کسی بھی صورت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔”

دوسری جانب، برطانیہ کے اعلیٰ پولیس حکام نے پبلک آرڈر برقرار رکھنے اور شہروں کو پرامن بنانے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے والے پُرتشدد افراد کی ویڈیوز کی مدد سے شناخت کی جا رہی ہے، اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے میں ملوث تمام شرپسند عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔