محدود اوقات میں کھانا بڑھاپے میں کس تکلیف سے بچا سکتا ہے؟
Web Desk
27 July 2026
ایک نئی ابتدائی (پائلٹ) تحقیق کے مطابق روزانہ کھانے کے اوقات 9 گھنٹے تک محدود رکھنے اور سونے سے 4 گھنٹے قبل کھانا بند کرنے سے معمر خواتین میں بڑھاپے کے دوران دماغی صلاحیتوں کی کمی اور ڈیمنشیا کے خطرے کو سست کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی رٹجرز یونیورسٹی کی غذائی ماہر پروفیسر سو شیپسز کے مطابق وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ مقررہ وقت پر کھانا اضافی دماغی فوائد فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد ڈیمنشیا کے باعث جاں بحق ہوتے ہیں، جبکہ درمیانی عمر میں موٹاپا لاحق ہونے سے بعد کی زندگی میں اس کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر اور جینیات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تاہم صحت مند طرزِ زندگی اور وقت پر غذا سے تقریباً نصف کیسز کو روکا یا تاخیر کا شکار کیا جا سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026
ہیلتھ ایشیا نمائش: شعبہ صحت میں عالمی تعاون اور جدت کا نیا سنگِ میل
14 September 2026
کراچی ایئرپورٹ: فضائی مسافروں کے لیے لازمی نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کی تاریخ میں 25 ستمبر تک توسیع
14 September 2026
وزیراعظم آفس نے ادویات کی مقامی خریداری کیلئے ٹینڈرز طلب کرلئے
14 September 2026
غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!
13 September 2026
صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال
13 September 2026
بہت گرم چائے سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
13 September 2026
بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک
12 September 2026