LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ لوئر دیر کے علاقوں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 5 بچے جاں بحق پنجاب میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز، 7 صنعتی یونٹس اور 4 بھٹے سیل نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل پولیو ورکرز قوم کے ہیرو، پنجاب سے پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہمارا عزم ہے: مریم نواز آزاد کشمیر: سکول جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں

متحدہ نے کمیٹی میں تمام شقوں کی حمایت کی، اسمبلی میں مکر گئی: شرجیل میمن

Web Desk

14 September 2026

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں سمیت پورے ملک نے سندھ اسمبلی کی کارروائی لائیو دیکھی ہے، جہاں ایم کیو ایم نے اپنی پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے صرف شور شرابہ کیا لیکن بل پر کوئی مثبت بحث نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل میں کوئی بہت بڑی ترامیم شامل نہیں تھیں اور حکومت چاہتی تو اسے براہِ راست بھی پیش کر سکتی تھی، مگر تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل سپیشل کمیٹی بنائی گئی۔ ایم کیو ایم کے نمائندوں نے کمیٹی کے اندر تمام شقوں کی مکمل حمایت کی، لیکن اسمبلی میں آ کر اپنے موقف سے مکر گئے۔

شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے اندر کچھ اور باہر کچھ اور کہنا ان کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ماضی میں بلدیاتی انتخابات سے بھی بھاگ گئی تھی اور اپنے ہی لیڈر سے بغاوت کی تاریخ رکھتی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے پہلے خالد مقبول صدیقی پر ‘را’ کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا تھا اور آج وہ انہی کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ شرجیل میمن نے مطالبہ کیا کہ مصطفیٰ کمال یا تو اپنے اس پرانے بیان کی وضاحت کریں یا پھر علانیہ معافی مانگیں۔