LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا وزیراعلیٰ بلوچستان نے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا یونان کا سرکاری دورہ مکمل امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، کم از کم فیس 145 درہم مقرر اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ، 270 روسی فوجی ماسکو پہنچ گئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق لگائی گئی: گورنر سندھ ماسکو میں ڈرون حملوں کا خطرہ، فضائی آپریشن کئی بار متاثر ہونے کے بعد دوبارہ بحال

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مانیٹری پالیسی کا اعلان: شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

Web Desk

14 September 2026

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ملک کی معاشی صورتحال، افراطِ زر کے اعداد و شمار اور مالیاتی استحکام کو مدِنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت بنیادی شرحِ سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اہم اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، معاشی اشاریوں، بنیادی افراطِ زر (Core Inflation) کی شرح اور عالمی مارکیٹ کے حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مرکزی بینک نے فی الوقت کی پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے اور اسے 11.5 فیصد پر مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکزی بینک کے حکام کے مطابق، شرحِ سود کو برقرار رکھنے کے اس فیصلے کا مقصد ملک میں معاشی سرگرمیوں کو متوازن رکھنا، مہنگائی پر قابو پانے کے تسلسل کو جاری رکھنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام دینا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کا یہ فیصلہ مالیاتی مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے جس سے صنعتی و تجارتی شعبے کو مالی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔