LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

ملک میں فاشزم اور معاشی بحران عروج پر، 27 ستمبر کو عوام کے حقوق اور آئین کی بحالی کے لیے نکلیں گے: راجہ ناصر عباس

Web Desk

14 September 2026

قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، مگر اس کا سیاسی دم گھونٹا جا رہا ہے اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں جاری فاشزم اور مظاہرین پر تشدد کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حاکمانِ وقت پرامن احتجاج کرنے والوں کے سروں پر گولیاں مار رہے ہیں، حالانکہ جن معاشروں میں احتجاج کرنے کا حق ختم ہو جائے وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا کہ پاکستان شدید معاشی، سیاسی اور امن و امان کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور ملک اقتصادی دیوالیہ پن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نظام میں اصولوں کے بجائے صرف جی حضوری کو معیار بنا لیا گیا ہے، جہاں بڑا سے بڑا مجرم بھی حکومت کا ساتھ دینے پر بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ صوبائی بنیادوں پر نفرتیں پھیلانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے ملک کی فیڈریشن اور سالمیت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں، کیونکہ طاقت کے استعمال سے نظام نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان مکمل طور پر معذور اور غیر متعلق ہو چکی ہے، جبکہ عدالتوں سے بھی طالع آزماؤں کے حق میں اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف فیصلے لیے جا رہے ہیں جن سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ تمام تر قومی مسائل، آئین کی حکمرانی اور رول آف لا کے قیام کے لیے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کی کامل حمایت کی جائے گی اور عوام اپنے حقوق کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے کیونکہ ملک کو صرف اور صرف آئین و قانون کی بالادستی کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔