LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: وزیر دفاع گورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت پاکستان اور امریکا کا توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ذوالفقار علی بھٹو کا بمبئی جائیدادوں پر 9 سالہ قانونی معرکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال کی رہائش گاہ آمد، خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت لاہور ہائیکورٹ کا نیا ججز روسٹر جاری، 2 نومبر سے 24 دسمبر تک بنچز مقدمات سنیں گے سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ

ملک میں فاشزم اور معاشی بحران عروج پر، 27 ستمبر کو عوام کے حقوق اور آئین کی بحالی کے لیے نکلیں گے: راجہ ناصر عباس

Web Desk

14 September 2026

قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، مگر اس کا سیاسی دم گھونٹا جا رہا ہے اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں جاری فاشزم اور مظاہرین پر تشدد کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حاکمانِ وقت پرامن احتجاج کرنے والوں کے سروں پر گولیاں مار رہے ہیں، حالانکہ جن معاشروں میں احتجاج کرنے کا حق ختم ہو جائے وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔

راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا کہ پاکستان شدید معاشی، سیاسی اور امن و امان کے بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور ملک اقتصادی دیوالیہ پن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نظام میں اصولوں کے بجائے صرف جی حضوری کو معیار بنا لیا گیا ہے، جہاں بڑا سے بڑا مجرم بھی حکومت کا ساتھ دینے پر بے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ صوبائی بنیادوں پر نفرتیں پھیلانے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے ملک کی فیڈریشن اور سالمیت کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں، کیونکہ طاقت کے استعمال سے نظام نہیں چلایا جا سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان مکمل طور پر معذور اور غیر متعلق ہو چکی ہے، جبکہ عدالتوں سے بھی طالع آزماؤں کے حق میں اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف فیصلے لیے جا رہے ہیں جن سے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ تمام تر قومی مسائل، آئین کی حکمرانی اور رول آف لا کے قیام کے لیے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کی کامل حمایت کی جائے گی اور عوام اپنے حقوق کے دفاع کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے کیونکہ ملک کو صرف اور صرف آئین و قانون کی بالادستی کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔