LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

طالبان رجیم کا بگرام ایئر بیس پر فوجی سازو سامان کی تیاری سے متعلق پروپیگنڈا بے نقاب

Web Desk

14 December 2025

امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان بگرام ایئر بیس پر نہ تو جنگی طیارے بنا رہے ہیں اور نہ ہی بکتربند گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے ناکارہ طیاروں اور پرانی بکتر بند گاڑیوں کو صرف رنگ و روغن کر کے رن وے پر کھڑا کیا ہوا ہے، جنہیں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر طالبان نے بطور گمراہ کن پروپیگنڈا جنگی مشقیں، طیاروں کی مرمت اور عسکری پریڈز دکھائیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا میں بعض تحقیقاتی اور مفاداتی حلقے بگرام ایئر بیس کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے اور فوجی سازوسامان کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

امریکا کے خصوصی نگران جنرل برائے افغان تعمیر نو پہلے ہی یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ امریکی انخلا کے دوران افغانستان میں تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان چھوڑا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان اپنی سکیورٹی ضروریات کیلئے غیر منظم اور مسلح گروہوں پر انحصار کر رہے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔