کس قسم کے مشروبات قبل از وقت موت کا سبب بنتے ہیں؟
Web Desk
11 March 2026
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس، فروٹ فلیورڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کا زیادہ استعمال قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ مشروبات نہ صرف دل کی بیماریوں اور Type 2 Diabetes کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
تحقیق کے اہم نتائج
2020 کے عالمی ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق میٹھے مشروبات کے بار بار استعمال کے باعث:
تقریباً 2.2 ملین نئے ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز سامنے آئے
1.2 ملین دل کی بیماریوں کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے
دنیا بھر میں تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار افراد کی اموات ان بیماریوں سے منسلک پائی گئیں
صحت پر منفی اثرات
ماہرین کے مطابق زیادہ مقدار میں میٹھے مشروبات پینے سے:
میٹابولک نظام میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے
انسولین مزاحمت بڑھ سکتی ہے
جسم میں دیرپا سوزش پیدا ہو سکتی ہے
یہ عوامل بالآخر ٹائپ 2 ذیابیطس اور قلبی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں۔
ماہرین کی سفارش
تحقیق میں شامل کارڈیالوجسٹ اور نیوٹریشن ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ:
میٹھے مشروبات کا استعمال ہفتے میں ایک سرونگ سے بھی کم رکھا جائے
اس کے بجائے پانی یا کم کیلوریز والے مشروبات کو ترجیح دی جائے
اگرچہ یہ مطالعہ مشاہداتی نوعیت کا ہے اور براہِ راست سبب و اثر ثابت نہیں کرتا، تاہم اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زیادہ شکر والے مشروبات صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں اور انہیں خوراک میں کم سے کم رکھنا بہتر ہے۔
متعلقہ عنوانات
موسیقی ذہنی دباؤ سے بحالی میں مددگار قرار، تحقیق
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
18 September 2026
ایم ڈی کیٹ 2026: امتحانی پرچے سخت سکیورٹی میں 14 شہروں کیلئے روانہ
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم
17 September 2026
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026