LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نورین نیازی نے جو کچھ بولا یہ انکا ذاتی خیال ہے، پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں: بیرسٹر گوہر اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات: نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری، یونین کونسلوں کی تعداد 130 کر دی گئی جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کیلئے 10 نئے ججز کی تقرری کی منظوری دے دی این ڈی ایم اے کا 24 جولائی تک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری گندم کی صورتحال پیچیدہ، تین صوبوں نے وفاق سے ذخائر مانگ لیے سپین کا شاندار استقبال، میڈرڈ کی سڑکوں پر 18 لاکھ سے زائد شائقین کا جشن ایران سے کشیدگی، امریکا کے پٹرولیم ذخائر 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے کوئٹہ کے رہائشی کے ہاں 5 بچوں کی پیدائش، اہلخانہ میں خوشی کی لہر حوثی دھمکی: سعودی فوجی اتحاد کا باب المندب کی حفاظت یقینی بنانے کا اعلان آزاد کشمیر میں عام انتخابات 2026ء تین مراحل میں کرانے کا فیصلہ؛ نیا انتخابی شیڈول جاری سندھ حکومت کا انقلابی اقدام: 18 ارب 20 کروڑ روپے سے 2 لاکھ 75 ہزار خاندانوں کو سولر ہوم سسٹم کی فراہمی جاری ایرانی وزیر داخلہ کا پاکستان مونومنٹ کا دورہ، یادگارِ شہداء پر حاضری این ڈی ایم اے کا 24 جولائی تک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح کیلئے نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کریں گے: وزیراعظم وفاق نے صوبوں سے نئے ترقیاتی ایجنڈے، پہلےمنصوبوں پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی

فتح کے بعد پورا سپین سڑکوں پر نکل آیا، مختلف شہروں میں جیت کا جشن

Web Desk

20 July 2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں اسپین کی تاریخی فتح نے دارالحکومت میڈرڈ سمیت پورے ملک کو جشن کے عظیم منظر میں بدل دیا۔ شدید گرمی اور رات کے وقت 32°C درجہ حرارت کے باوجود لاکھوں شائقین سرخ اور زرد قومی پرچم تھامے سڑکوں، چوراہوں اور پارکوں میں نصب بڑی اسکرینوں کے سامنے ڈٹے رہے۔ مقابلے کے اضافی وقت کے 106ویں منٹ میں فیران ٹوریس (Ferran Torres) کے فیصلہ کن اور شاندار گول نے اسپین کو دوبارہ عالمی چیمپئن بنا دیا، جس کے ساتھ ہی میڈرڈ کے مشہور پلازا ڈی کولون سمیت پورا ملک نعروں، تالیوں اور آتش بازی سے گونج اٹھا۔ اگرچہ بعد میں اسپین کا ایک اور گول مسترد بھی ہوا، مگر فائنل کی آخری سیٹی بجتے ہی شہری، ریسکیو اہلکار اور پولیس سب ایک ساتھ تاریخی فتح کے جشن میں شریک ہو گئے۔ رات بھر جاری رہنے والی ان پرجوش تقریبات نے ثابت کر دیا کہ ‘لا روخا’ (La Roja) کی یہ فتح اسپین کے لیے کسی قومی تہوار سے کم نہیں ہے۔