LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

صحت مند زندگی کیلیے ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے آسان طریقے

Web Desk

16 December 2025

پانی کی مناسب مقدار اور جسمانی ہائیڈریشن برقرار رکھنا ہر عمر کے افراد کے لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ نہ صرف توانائی اور قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ گردوں، دل اور دماغ کی صحت کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ہر شخص کے جسمانی حالات، سرگرمیوں اور ماحول کے مطابق پانی کی ضرورت مختلف ہوتی ہے، لیکن عمومی رہنمائی کے طور پر بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 8 سے 10گلاس پانی پینا چاہیے۔ ماہرین صحت کے مطابق  جسم میں پانی کی کمی کی علامات جیسے تھکن، چکر، خشک جلد یا کم پیشاب ظاہر ہونے پر فوری توجہ ضروری ہو جاتی ہے۔

پانی کے ساتھ ساتھ الیکٹرولائٹس یعنی نمکیات کی مناسب مقدار بھی ہائیڈریشن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ناریل پانی یا قدرتی الیکٹرولائٹ ڈرنکس اس سلسلے میں فائدہ مند ہیں اور جسمانی توازن قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

محفوظ ہائیڈریشن کے لیے غذائیت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی پانی کی مقدار۔ پانی والی سبزیاں اور پھل جیسے تربوز، خربوزہ، کھیرا اور سیب جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے اور توانائی برقرار رکھنے میں مؤثر ہیں۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کی خوراک میں پھل اور سبزیاں شامل رکھیں تاکہ جسم کو ضروری غذائی اجزا اور پانی دونوں فراہم ہوں۔ کیفین اور الکحل کے استعمال سے گریز کریں کیوں کہ یہ دونوں جسم سے پانی خارج کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ہائیڈریشن کی کمی پیدا کر سکتے ہیں۔

معمولات کے دوران پانی کی اہمیت

عام زندگی میں چھوٹے مگر مؤثر اقدامات بھی ہائیڈریشن کے لیے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا، باہر جانے کے دوران پانی ساتھ رکھنا اور زیادہ جسمانی محنت یا ورزش کے دوران باقاعدگی سے پانی پینا ضروری ہے۔ جسم کو مناسب پانی فراہم کرنے سے نہ صرف توانائی برقرار رہتی ہے بلکہ جلد کی تازگی، ہاضمہ اور عمومی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

ماہرین صحت اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ہائیڈریشن کو مستقل بنیاد پر برقرار رکھنا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ چاہے آپ کام کے دوران بیٹھے ہوں، ورزش کر رہے ہوں یا سفر پر ہوں، پانی اور غذائیت کا توازن برقرار رکھنا جسمانی اور ذہنی تندرستی کے لیے لازمی ہے۔

یہ چھوٹی مگر مؤثر عادات سال بھر جسم کو توانائی، تروتازگی اور تحفظ فراہم کرتی ہیں اور کسی بھی وقت ڈی ہائیڈریشن کے خطرات سے بچاتی ہیں۔