LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی 14 ستمبر سے نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی سفر کی اجازت نہیں ہوگی پیٹرولیم مہنگائی پر ٹرانسپورٹرز کا کرائے 5 فیصد مزید بڑھانے کا اعلان سندھ میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر شرجیل میمن برس پڑے سندھ میں کوئی بھی صوبے کی تقسیم کے حق میں نہیں، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا: مراد علی شاہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا

انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس

Web Desk

12 September 2026

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ضلعی عدالتیں ملکی نظامِ انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے تمام اداروں کا اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ضروری ہے۔

ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ماتحت عدلیہ کے ججز کو بلاخوف و خطر اور ایمانداری سے فرائض کی انجام دہی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے جوڈیشل کوڈ آف کنڈکٹ میں بنیادی اصلاحات متعارف کروا دی گئی ہیں اور پوری عدلیہ ججوں کی آزادی کی ضامن ہے۔

 ملک بھر کی عدالتوں کو ترجیحی بنیادوں پر سولر سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اعلیٰ معیار کے تیز ترین انٹرنیٹ اور ای لائبریریز (e-libraries) کی سہولت بھی مہیا کی جا رہی ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ رواں سال عدالتی بہتری کے لیے ‘ایکسس ٹو جسٹس’ پروگرام کے تحت 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ماضی میں 20 سالوں کے دوران صرف 900 ملین روپے جاری ہوئے تھے۔بلوچستان کی تمام تحصیلوں اور 18 اضلاع میں سولر، صاف پانی اور انٹرنیٹ کی سہولیات کی فراہمی مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی اضلاع میں ایک ماہ کے اندر تمام کام مکمل کر لیا جائے گا۔ عدالتوں میں خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک بھر کے جوڈیشل افسران اور ان کے خاندانوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کی سہولت کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔