LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

14 ہزار سال سے برف میں منجمد بھیڑیے کے بچے کے پیٹ میں ملنے والی غذا نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

Web Desk

17 January 2026

سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا میں برف میں منجمد ہزاروں سال پرانے بھیڑیے کے دو بچوں سے متعلق حیران کن تحقیق کی ہے۔

محققین کے مطابق، ان بھیڑیوں کے پیٹ میں وولی رینو نامی قدیم گینڈے کے گوشت کے ٹکڑے محفوظ تھے، جسے ڈی این اے کے ذریعے 14 ہزار سال بعد مکمل جینوم سیکونس بنایا جا سکا۔

یہ پہلی بار ہے کہ برفانی عہد کے کسی جانور کا مکمل جینیوم کسی اور جانور کے پیٹ میں موجود مواد سے تیار کیا گیا۔ محققین کے مطابق یہ گینڈے 14 ہزار 400 سال قبل معدوم ہوئے، اور ڈی این اے سے عندیہ ملا کہ معدومی سے چند سو سال قبل یہ گینڈے صحت مند تھے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ دونوں بھیڑیے ممکنہ طور پر رشتہ دار تھے، اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے برف میں دب کر ہلاک ہوئے، جہاں یہ 14 ہزار سال تک محفوظ رہے۔

یہ تحقیق Genome Biology and Evolution جرنل میں شائع ہوئی ہے۔