LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ

14 ہزار سال سے برف میں منجمد بھیڑیے کے بچے کے پیٹ میں ملنے والی غذا نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

Web Desk

17 January 2026

سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا میں برف میں منجمد ہزاروں سال پرانے بھیڑیے کے دو بچوں سے متعلق حیران کن تحقیق کی ہے۔

محققین کے مطابق، ان بھیڑیوں کے پیٹ میں وولی رینو نامی قدیم گینڈے کے گوشت کے ٹکڑے محفوظ تھے، جسے ڈی این اے کے ذریعے 14 ہزار سال بعد مکمل جینوم سیکونس بنایا جا سکا۔

یہ پہلی بار ہے کہ برفانی عہد کے کسی جانور کا مکمل جینیوم کسی اور جانور کے پیٹ میں موجود مواد سے تیار کیا گیا۔ محققین کے مطابق یہ گینڈے 14 ہزار 400 سال قبل معدوم ہوئے، اور ڈی این اے سے عندیہ ملا کہ معدومی سے چند سو سال قبل یہ گینڈے صحت مند تھے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ دونوں بھیڑیے ممکنہ طور پر رشتہ دار تھے، اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے برف میں دب کر ہلاک ہوئے، جہاں یہ 14 ہزار سال تک محفوظ رہے۔

یہ تحقیق Genome Biology and Evolution جرنل میں شائع ہوئی ہے۔