LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 2700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ سوات: کبل خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، حملے کا مقدمہ درج ایران پر دوسری جنگِ عظیم جیسی شدت کے حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیر دفاع وزیر اعلیٰ پنجاب کا سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعاتی پیکج کا اعلان کے پی پولیس میں انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ الگ الگ کرنے کا فیصلہ امریکی ریاست آئیڈاہو میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، حملہ آور نے خودکشی کر لی شام اور اردن کا عراقی سرزمین سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ چین کا صوبہ گانسو میں سیلاب سے تباہی کی ذمہ داری کے تعین کیلئے تحقیقات کا اعلان یوکرین کا روس میں ڈرون حملہ، 13 سالہ لڑکی ہلاک، 2 شدید زخمی چین کے سٹیل پلانٹ میں دھماکے کی تحقیقات مکمل، 62 افراد ذمہ دار قرار، 7 گرفتار آسٹریا میں جون کے دوران ہیٹ ویوز کے باعث 395 اموات ریکارڈ پیپر لیک اور امتحانات منسوخی: راہول گاندھی کا مودی سرکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں: حنیف عباسی کی سوات میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت

14 ہزار سال سے برف میں منجمد بھیڑیے کے بچے کے پیٹ میں ملنے والی غذا نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

Web Desk

17 January 2026

سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا میں برف میں منجمد ہزاروں سال پرانے بھیڑیے کے دو بچوں سے متعلق حیران کن تحقیق کی ہے۔

محققین کے مطابق، ان بھیڑیوں کے پیٹ میں وولی رینو نامی قدیم گینڈے کے گوشت کے ٹکڑے محفوظ تھے، جسے ڈی این اے کے ذریعے 14 ہزار سال بعد مکمل جینوم سیکونس بنایا جا سکا۔

یہ پہلی بار ہے کہ برفانی عہد کے کسی جانور کا مکمل جینیوم کسی اور جانور کے پیٹ میں موجود مواد سے تیار کیا گیا۔ محققین کے مطابق یہ گینڈے 14 ہزار 400 سال قبل معدوم ہوئے، اور ڈی این اے سے عندیہ ملا کہ معدومی سے چند سو سال قبل یہ گینڈے صحت مند تھے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ دونوں بھیڑیے ممکنہ طور پر رشتہ دار تھے، اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے برف میں دب کر ہلاک ہوئے، جہاں یہ 14 ہزار سال تک محفوظ رہے۔

یہ تحقیق Genome Biology and Evolution جرنل میں شائع ہوئی ہے۔