شارٹ ویڈیوز: سہولت یا ذہنی صحت کے لیے خطرہ؟ ماہرین کی وارننگ
Web Desk
9 February 2026
آج کے ڈیجیٹل دور میں مختصر دورانیے کی ویڈیوز جیسے ٹک ٹوک، انسٹاگرام ریلز اور یوٹیوب شورٹز نوجوانوں اور بڑوں دونوں کے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق چند سیکنڈ کی یہ تیز رفتار ویڈیوز توجہ، یادداشت اور ذہنی توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ ایک عالمی تحقیقی جائزے میں 98 ہزار سے زائد افراد کے تجزیے سے ثابت ہوا کہ مختصر ویڈیوز کا زیادہ استعمال توجہ میں کمی، ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن جیسے مسائل کا باعث بنتا ہے۔
چین میں کالج طلبہ پر کی گئی ایک تحقیق میں بھی انکشاف ہوا کہ مختصر ویڈیوز کے عادی نوجوانوں میں بے چینی اور منفی نفسیاتی علامات نمایاں طور پر زیادہ پائی گئیں۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز گرافکس اور مسلسل بدلتے مناظر دماغ کے انعامی نظام کو متحرک کرتے ہیں، جس سے فوری تسکین کی خواہش اور اسکرین وقت میں اضافہ ہوتا ہے، جو نشہ آور عادتوں سے مشابہ ہے۔
تاہم بعض تحقیقات کے مطابق عمر رسیدہ افراد میں مختصر ویڈیوز خاندانی روابط مضبوط کرنے اور تنہائی کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق ویڈیوز کا استعمال بذاتِ خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن اور غیر ضروری استعمال منفی اثرات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے صارفین کو اسکرین وقت محدود رکھنے، مثبت مواد منتخب کرنے اور حقیقی زندگی میں توازن برقرار رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق
11 September 2026
ملک بھر کے 115 مخصوص اضلاع میں 21 تا 27 ستمبر ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا اعلان
11 September 2026
بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک
11 September 2026
وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو
10 September 2026
بلوچستان میں 25 لیڈی میڈیکل افسران ملازمت سے برطرف، نوٹیفکیشن جاری
10 September 2026
شہر قائد میں منکی پاکس کا ایک اور کیس رپورٹ
10 September 2026
بہت زیادہ گرم چائے پینے والے افراد خبردار، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
10 September 2026
پنجاب کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی کا منصوبہ مشروط طور پر منظور
9 September 2026